باب دوم: گمنام خطوط کا معمہ
محمد خلیل الرحمٰن
ایک دِن کیا ہوا ، ایک خط آگیا
دیکھتے ہی جسے ہیری گھبرا گیا
یوں تو خط کوئی نام اُس کے آتا نہ تھا
ملنے کوئی اُسے آتا جاتا نہ تھا
ایک بھاری سا کالا لفافہ تھا وہ
نام ہیری کا اس پر لکھا تھا سنو!
ہیری پوٹر نے بس جونہی دیکھا اُسے
ہو کے بے تاب فوراً ہی...
ہیری پوٹر اور پارس پتھر
ایک لوک گیت
محمد خلیل الرحمٰن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیری پوٹر ہیری پوٹر کہاں گئے تھے
گھر میں اپنی کوٹھری میں سو رہے تھے
ڈڈلی نے لات ماری رونے لگے
امی نے یاد کیا ، ہنسنے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔
باب اول: وہ لڑکا جو زندہ رہا
محمد خلیل الرحمٰن
ایک چھوٹے سے لڑکے کی ہے داستاں
جس کی پیشانی پر تھا...
جزاک اللہ جناب سید شہزاد ناصر بھائی!
پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمائیے۔
محفلین کی ہمت افزائی ہمارے لیے مزید لکھنے کی تحریک فراہم کرتی ہے۔ خاص طور پر آپ جیسے سنجیدہ قدردان تو ہر لکھاری کا خواب ہیں۔ خوش رہیے۔
ہر انسان کے اندر ایک بچہ چھپا ہوتا ہے، کچھ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر سلادیتے ہیں، کچھ کے اندر کا بچہ کہیں کھو جاتا ہے۔ ہمارے اندر کا بچہ ہمارا سب سے اچھا دوست ہے۔ اسی لیے ہم کم از کم اسی سال تک تو بچہ ہی رہنے پر مصر ہیں۔