غزل
(جلال لکھنوی)
اُسے ہر جگہ جلوہ گر پارہے ہیں
تصور سے تصویر کِھچوارہے ہیں
تسلّی یہ خوب آپ فرما رہے ہیں
کہ ٹھہرے ہوئے دل کو تڑپا رہے ہیں
غلط ہے اجی عشق کا ان سے دعویٰ
چلو جھوٹ ہی قسمیں ہم کھا رہے ہیں
میں دیتا تھا دل جب کسی نے نہ روکا
نہ دو جان اب لوگ سمجھا رہے ہیں
وہ جلوہ دکھاتے تو...