میں یہاں بھی یہی عذر پیش کروں گا کہ نفرت اور محبت کے لیے وقت اور حالات ہی بر محل ہوتے ہیں ۔محبت اور نفرت خودساختہ کبھی بھی نہیں ہوتی ۔انسانی رویے اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ان سے محبت کی جائے یا نفرت ؟
قبرستان اور اونچائی کے موضوع کے حساب سے لفظ وحشت کا استعمال بر محل ہے ،یہاں ہم لفظ خوف زدہ بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔ان الفاظ کا اگر کوئی نعم البدل ہو سکتا ہے تو محفل میں موجود کئی صاحب علم ہیں وہ ہی زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں ۔
بات تو وہاں آ گئی جہاں سے چلی تھی بہنا ،
تعریف جب اپنی اندر کئی معنی رکھتی ہے تو ذومعنی ہوئی ،اب مدمقابل پر انحصار ہی کیا جاسکتا ہے کہ آپ کی تعریف کو منفی لیا یا مثبت ۔
ان صاحب کی بات بھی اپنی جگہ بجا ہے، بر محل اس وقت وحشت کے معنی اجنبیت ہی ہوں گے ۔اکثر اوقات ہم لوگوں سے یہ جملہ بھی سنتے ہیں کہ مجھے تنہائی سے یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے وحشت ہو رہی ہے ۔ تو آپ اس جملے سے کیا معنی لیں گے ۔