نظر آتی تھی کدھر اور کدھر کی نکلی
زندگی راہ گزر اگلے سفر کی نکلی
بادشاہی بھی گدا عشق کے در کی نکلی
یہ پٹاری بھی اسی شعبدہ گر کی نکلی
ایک حسرت بھی نہ اس دیدۂِ تر کی نکلی
نہر نکلی بھی تو خوننابِ جگر کی نکلی
کوئی صورت نہ دعاؤں میں اثر کی نکلی
پلٹ آئی سرِ شام آہ سحر کی نکلی
ناک کی سیدھ میں بازار...