قوافی کے لیے ضروری ہے کہ مشترک حروف سے پہلے کا حرف متحرک ہو، یعنی زیر زبر یا پیش یو۔ زخم اور رسم میں صرف م مشترک ہے، اور اس سے پہلے کے حروف ض اور س ساکن ہیں۔ رزم اور بزم درست قوافی ہیں کہ مشترک حروف زم ہیں اور ان سے پہلے ر اور ب پر زبر ہے۔
پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اجاڑا اور گزارا قافیہ نہیں ہو سکتے!
شتر گربہ بھی ہے
ایک بار پھر غور سے دیکھیں غزل کو، مجھے تو یہی لگتا ہے کہ آپ روزانہ ایک غزل کہتے ہی اصلاح کے لیے پوسٹ کر دیتے ہیں، اس کے ساتھ کچھ وقت نہیں گزارتے
مطلع میں دوسرا مصرع
کیا کسی سے بھی کچھ کہا میں نے
'بھی' کی جگہ کچھ غلط محسوس ہوتی ہے
کیا کسی سے کچھ بھی کہا میں نے
درست بیانیہ ہوتا
چین والا شعر ویسے بھی درست لگتا ہے لیکن بھائی ارشد کا مشورہ بھی اچھا ہے
اسے دیکھا اسے چاہا اسے پایا اسے کھویا
مآلِ زندگی دیکھا میں پہروں پھوٹ کر رویا
--------یا
کتابِ زیست کو پڑھ کر میں پہروں بیٹھ کر رویا
-------------- کتاب زیست والا شعر بہتر ہے
ندامت سے جھکی آنکھیں ، جوابِ جرم کیا ہو گا
خدا کا خوف جاگا یوں میں راتوں کو نہیں سویا
-------------' ندامت سے جھکی...
پہلے شعر میں اور کا اُر تقطیع ہونا درست نہیں
دوسرے شعر میںآپ سحر یا جادو کے اتار/خمار کی بات کر رہے ہیں لیکن الفاظ میں صرف حسن کی بات ہی ہے
'حسن تیرے کا' بجائے 'تیرے حسن کا' آپ کے علاوہ کسی کے ذہن میں شاید ہی آ سکے!
متبادل شعر میں جا.... دو ٹوٹ رہا ہے
دو مزید شعر درست قرار دیے گئے تھے.، انہیں شامل نہیں کیا؟
مطلع اب بھی دو لخت لگتا ہے
آخری شعر میں بھی دوسرے مصرعے میں 'جو' ضروری لگتا ہے
نوشتہ تھا جو قسمت کا، مٹایا......
کیا جا سکتا ہے
پہلے مطلع کی بات، روز کے بول چال والے معنی روزانہ Daily کے ہوتے ہیں
اک اور اپنا دن بھی یوں سو کر.. بہتر ہو گا
اگلے دو اشعار درست ہیں
میری سُنی نہ ایک، بس اپنی کہے گیا
ساتھی بھی درد اپنا ہی رو کر چلا گیا
... بڑی غلطی تو نہیں لیکن تقابل ردیفین کا سقم ہے۔ دوسرے مصرعے میں 'اپنا ہی' کے آ اور ی کا...
قوافی پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ۔ چھاؤں پاؤں کی آوازیں جمع کے الفاظ دعاؤں، خطاؤں سے مختلف ہیں۔ پھر میری ترجیحات کے مطابق، ممکن ہے اسے میری سنک سمجھا جائے، پاؤں، چھاؤں بطور اسم محض بطور فعل باندھنا اور چھانا پانا مصدر سے بطور فعل verb کو فعلن باندھنا بہتر ہے
مزید یہ کہ
نہ بھاگو یوں دنیا کے پیچھے خدارا
کسی کام کی ہے تمہارے نہ میرے
------------- دوسرے مصرعے کا ربط پہلے سے نہیں بنتا جب تک کہ 'یہ' کا اضافہ نہ کیا جائے ۔ پہلے مصرع میں ہی خدارا کے اضافی الفاظ کی جگہ یہ' شامل کیا جا سکتا ہے
نہ تم اس کے پیچھے یوں بھاگو، یہ دنیا
بہتر ہو گا
کچھ مصرعے تو مفعول مفاعیلن دو بار میں تقطیع ہو رہے ہیں، کچھ نہیں۔ یہ کس بحر میں کوشش کی گئی ہے؟
اگر یہی بحر ہے تو یہ دو ٹکڑوں میں منقسم بحر ہے، ہر ٹکڑے میں بات مکمل ہو تو اچھا ہے
دو ٹکڑوں میں ٹوٹنے پر میرے اعتراضات پر غور نہیں کیا گیا۔ راحل نے اس کی نشان دہی کی تھی لیکن آپ کی صوابدید پر چھوڑ دیا
دنیا نے جو اُٹھائی.... تھی بیچ میں ہمارے
اب بھی غلط ہے