متفق۔ جس ملک کا میڈیا فیملی لمیٹڈ کمپنیز کو جمہوری انقلابی سیاسی جماعتیں بنا کر پیش کرے۔ جہاں ملک کے محافظ اقتدار پر قابض ہوں اور ان کے خلاف بات کرنے پر پابندی ہو۔ جس جگہ چپڑاسی سے لے کر 22 گریڈ کا آفیسر تک کرپٹ و رشوت خور ہو۔ وہاں یہی کچھ ہی ہوتا ہے جو اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے۔
اس جرم کے نفاذ میں عوام اور سیاسی برادری خود شامل ہے۔ جب جرنیل عدلیہ کو لپیٹ رہے ہوتے ہیں تو جمہوری سیاسی قوتیں جی ایچ کیو اور کور کمانڈرز کے گھروں کا گھیراؤ کیوں نہیں کرتی؟ تھوڑی سی آنسو گیس کی شیلنگ ان جمہوری انقلابیوں کی برداشت سے باہر ہے ۔ یہ ٹینکوں کے آگے لیٹ کر جمہوری انقلاب لائیں گے :)
عمران خان الطاف حسین، نواز شریف، حسین حقانی کی طرح ڈرپوک و بزدل بھگوڑا نہیں ہے۔ اس کو بھی کبھی فوج اور عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی کی ضرورت پڑی تو وزیر اعظم رہتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر کرے گا۔
ایک عدالت سے سزا ملتی ہے تو دوسری عدالت سے سزا معطل
ایک عدالت کے حکم پر گرفتاری ہوتی ہے تو دوسری عدالت سے ضمانت
کوئی بھی بڑا کیس سیاسی دباؤ کی وجہ سے اپنے منطقی انجام تک پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا۔ پھر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ریاست پاکستان کیوں اتنی کمزور ہے۔ جب خود ہی قومی مجرموں، چوروں، غداروں کو...
نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج
ویب ڈیسک پير 5 اکتوبر 2020
نوازشریف کی تقاریر کا مقصد پاکستان کو غنڈہ ریاست قرار دلانا ہے، ایف آئی آر فوٹو: فائل
لاہور / اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اشتعال انگیز کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے شاہدرہ پولیس...
نوازشریف پاکستان کی دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، طاہر اشرفی
ویب ڈیسک 3 گھنٹے پہلے
وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی نے سربراہ مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا(فوٹو، فائل)
راولپنڈی: وزیرا عظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی کا کہنا ہے...
بالکل بھی نہیں۔ جب تک اپوزیشن والے امن پسند رہتے ہیں، انصافین بھی امن پسند رہیں گے۔ ہاں اگر انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو پہلے پولیس اور پھر برگر بچے ان کا مقابلہ کریں گے۔ فوج کو بیچ بچاؤ کیلئے درمیان میں آنے نہیں دیا جائے گا۔
نہیں بلکہ ڈرپوک جرنیلوں کو حوصلہ دلانا ہے کہ اگر مولانا کے چند ہزار بچوں سے ڈر کر اپوزیشن والوں کو این آر او دیا تو ہمارے پاس ان سے کہیں زیادہ اسٹریٹ پاور موجود ہے۔ اس لئے ان کی بلیک میلنگ میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آپ 20 ہزار لوگ سڑکوں پر نکال لیں تو جنرل کا پیشاب نکل جاتا ہے، عمران خان
فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ خان اعظم ان سے کہیں زیادہ بندے نکال لے گا اگر ضرورت پڑی تو۔