ایک دفعہ وارث بھائی یاز بھائی سے ملنے اُنکے گھر گئے- ابھی دروازہ کھٹکانے ہی لگے تھے کہ اندر سے کچھ اس طرح کی آوازیں آنے لگیں۔
"میرے ہی نصیب پھوٹے تھے جو تم میرے نصیب میں لکھے تھے، پتہ نہیں ماں باپ نے کیا سوچ کر تمہارے ساتھ بیاہ دیا" وغیرہ وغیرہ
وارث بھائی نے یہ آوازیں سُنکر دروازے ہی سے گھر کی...