آپ کی گوں نا گوں مصروفیات اور علمی و ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کمپیوٹر سے آپ کی دلچسپی کو دیکھ کر تو ہم دانتوں تلے انگلیاں دنالیتے ہیں۔ شالا نظر نہ لگے
ہماری خوش قسمتی ہے استادِ محترم کہ پاس ورڈ یاد آگیا۔اب کی بار کوئی آسان پاس ورڈ رکھ لیجیے۔ کوئی آپ کے اکاؤنٹ کو ہیک کرکے کیا کرے گا آخر؟ آپ جیسا علم و فن بھی تو لائے لکھنے کے لیے۔ سدا خوش رہیے
نوٹ: صبح آنکھ کھولی ہی تھی کہ ستیہ پال آنند صاحب کا ای میل ملا۔ ہم حیران ہوئے۔ شاید کسی گروپ میں لکھا ہو جس کے ہم بھی اتفاقاً ممبر ہوں، لیکن یہ ان کا ذاتی ای میل تھا جس میں انہوں نے (ہم سمیت) ایک لمبی چوڑی فہرست کو ای میل بھیجا ہے۔ اردو میگزین زاویہ میں چھپا ڈاکٹر قیصر عباس صاحب کا مضمون ساتھ...
میں چاہتا تو بہت ہوں کہ کچھ لکھوں لیکن
خاطرِ بے صبر و تاب تو اپنی جگہ، محفل کے منتظمین بھی ناجائز تعلقات کی تفاصیل دیکھ نہیں پائیں گے اور فورآ وہی ردی کی ٹوکری ہمارے مضمون کا مقدر ٹھہرے گی جس کا شکار ہمارے اندر کا مصنف بہت عرصے سے ہوتا چلا آیا ہے، لہٰذا رہنے ہی دیجیے!
اقوالِ یوسفی
ذرا پھر سے کہیے؟ ذرا اقوالِ یوسفی پڑھ کر ایک مرتبہ پھر اظہارِ خیال کیجیے (گو ابھی ہم صرف دو مضامین سے ہی اقتباسات لے پائے ہیں)
جہاں تک شامِ شعرِ یاراں کے محفل پر چسپاں کیے گئے اقتباسات کا تعلق ہے، ہم بھی فاتح بھائی سے متفق ہیں کہ ان اقتباسات کو پڑھ کر کوئی اچھا تاثر ذہن پر نہیں...
دراصل اس نوٹ کی وجہ تسمیہ وہ خفت ہے جو ہمیں ایک پچھلے مضمون کے سلسلے میں اٹھانی پڑی۔ ہم نے لکھ دیا تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے، مبادا جناب Fawad -
کا ماتھا ٹھنکے اور وہ دوڑے دوڑے اس دھاگے میں چلے آئیں اور پی ایل ۴۸۰، یو ایس ایڈ اور دیت برائے قتل کے سلسلے میں تشریحی نوٹ لکھ ماریں؟...