ہان، یہ رواں لگ رہی ہے
میں نے انا بھلا کر خود کو جھکا لیا ہے
یہ تیرا ظرف تُو نے پتھر اٹھا لیا ہے
... دوسرا مصرع یوں بہتر ہو شاید
ہے تیرا ظرف، تو نے.....
تُو مال و زر کے پیچھے گرداں رہا ہمیشہ
میں ہوں کہ تیری رہ میں خود کو گنوا لیا ہے
آنسو رہے مقید پلکوں کے طاقچوں میں
اس ضبط نے تو جیسے رگ رگ...