دل مرا اداس ہے, روح بھی اداس ہے
آپ کی بنا, مری ذندگی اداس ہے
... درست، مگر 'آپ کے بنا' کے ساتھ
رونقیں اجڑ گئیں, ہو گئیں ہیں خلوتیں
بن ترے گلی گلی گاؤں کی اداس ہے
... خلوتیں سے کیا ربط؟ یہ ٹکڑا بدل دیں
سب امید کے مرے بجھ گئے چراغ ہیں
چھا گئی ہے تیرگی روشنی اداس ہے
.... پہلا مصرع رواں نہیں،...