نتائج تلاش

  1. الف عین

    خیالِ یار دل میں ہے زباں پہ اس کا نام بھی---برائے اصلاح

    خیالِ یار دل میں ہے زباں پہ اس کا نام بھی گواہ اس پہ دیکھئے ہے میرا سب کلام بھی ----------------- مطلع اچھا اور درست ہے، اصلی غزل کا یعنی عشقیہ۔ بعد کے سارے اشعار سے الگ۔ کوشش کریں کہ ایک ہی رنگ کی غزلیں ہوں۔ اللہ کی تعریف میں ایک آدھ شعر ہو جائے تو کچھ حرج نہیں ۔ مگر باقی سارے اشعار اللہ کے...
  2. الف عین

    برائے اصلاح و رہنمائی

    ہوش و حواس ،عقل و خرد جان اور دل وہ میرا سب اثاثہ چرا کر چلا گیا تو داغ کا یہ شعر یاد دلاتا ہے ہوش و ہواس عقل و خرد کب کے جا چکے اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
  3. الف عین

    عہدِ عروج ہو یا عہدِ زوال ہو

    یہ بھی وہی بحر ہے جس کا ابھی بدلنے کا مشورہ دے چکا ہوں۔ دو بار مفعول فاعلاتن کی بجائے ایک دوسری تجویز مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن والی بحر بھی یو سکتی ہے عہدِ عروج ہو کہ وہ عہدِ زوال ہو زیادہ رواں نہیں لگتا؟
  4. الف عین

    کیسا عجب تعلق تجھ سے بنا لیا

    مجھے یہ بحر رواں نہیں لگتی۔ کیا حرج ہے اگر تجربہ نہ کرتے ہوئے مستعمل بحر یعنی مفعول فاعلاتن دو بار کے افاعیل کے ساتھ ہی اسے تبدیل کیا جائے۔ بہت ممکن ہے کہ روانی میں اضافہ واضح نظر آئے
  5. الف عین

    تیرگی کیوں نہ ختم ہو جاتی ۔ ۔ ۔ برائے اصلاح

    تیرگی کیوں نہ دور ہو جا تی سے شروع ہونے والے مصرعوں کو یوں لکھو تیرگی کیوں نہ دور ہو جا تی یہ سیاہی بھی نور ہو جاتی اس جہاں میں نہ ہوتا مجھ جیسا بے مثال اور یکتا رہ جاتی ( ان دو مصرعوں کو نکال ہی دو، ، یکتا کا لاف بری طرح گر رہا ہے) رشک کرتا ہمالیہ مجھ پر اور بلندی بھی تکتی رہ جاتی جو یوں...
  6. الف عین

    برائے اصلاح

    نظمِ التفات کیں رونقیں اجڑ گئیں بن ترے گلی گلی گاؤں کی اداس ہے .. واضح اب بھی نہیں ہوا سب مرے امید کے بجھ گئے چراغ ہیں چھا گیا اندھیر ہے روشنی اداس ہے .... اندھیر اندھیرا نہیں ہوتا، اس کا مطلب ظلم ہوتا ہے، چھا گئی ہے تیرگی' ہی بہتر ہے۔ لیکن میرا اعتراض تو اب بھی قائم ہے جو پہلے کہا تھا! شاخ...
  7. الف عین

    اس وقت ہمسفر مری تنہائیاں بھی ہیں

    یاں گھنگھرؤں کے شور میں رسوائیاں بھی ہیں رقصاں ہرایک تال پہ رعنائیاں بھی ہیں ... مطلع اب بھی جما نہیں، بازارِ حسن کا ذکر لگتا ہے منجدھار میں نہ جا تجھے روکا ہے باربار آب ِرواں تو صاف ہے گہرائیاں بھی ہیں .. واضح نہیں، یہ تعلق نہیں بتایا گیا ہے کہ جس دریا کا صاف پانی ہے، اسی میں گہرائیاں ہیں...
  8. الف عین

    غزل برائے اصلاح - زنیرہ گل

    اس نے جو مجھ سے گفتگو کی ہے دل ملانے کی جستجو کی ہے .... ربط کی کمی ہے، تکنیکی طور پر درست کچھ جھکی سی وہ اک نگاہ نے آج مجھ کو پانے کی آرزو کی ہے ... پہلا مصرع رواں نہیں، کچھ، وہ، اک وغیرہ سارے الفاظ کی ضرورت نہیں مرے الفاظ بھی لرزنے لگے بات جب اس کے رو برو کی ہے ... درست، مرے وزن میں نہیں،...
  9. الف عین

    تعارف اردو فورم میں میری پہلی پوسٹ

    خوش آمدید مدثر بلکہ ابن سعید ثانی، ابن سعید تو محفل کے ایڈمن ہی ہیں!
  10. الف عین

    برائے اصلاح،علاجِ وہم و گماں لا إله إلا الله

    ابھی بھی گونج رہی ہے فضائے کربل میں کر دو، وزن درست ہو جائے گا اور صیغہ بھی، یہاں continuous کا ہی محل ہے باقی مجھے بھی درست لگ رہی ہے غزل، سوائے حسن مطلع کے جس کے دونوں مصرعوں میں ربط پیدا نہیں ہو سکا، دونوں پر دو مزید گرہیں لگا کر دو اشعار بنا دو
  11. الف عین

    ایک غزل برائے اصلاح

    تو شاید نمرہ احمد کی اردو ہی ماشاء اللہ ہے!
  12. الف عین

    ایک غزل برائے اصلاح

    راحل سے متفق ہوں میں بھی، البتہ تمہارا نام بہت مہمل لگا، کیا یہ محمِل ہونا تھا؟
  13. الف عین

    ان آنکھوں سے نمی جاتی نہیں ہے

    درست ہو گیا بس ذہن کا تلفظ درست کر دو تو غزل مکمل درست ہو جائے
  14. الف عین

    غزل براہ اصلاح ،

    میرے خیال میں 'چھاؤں کے پہر' چل سکتا ہے بجائے سکوں کے، الفاظ بدل کر دیکھیں کیسے فٹ ہوتا ہے یہاں
  15. الف عین

    برائے اصلاح

    دل مرا اداس ہے, روح بھی اداس ہے آپ کی بنا, مری ذندگی اداس ہے ... درست، مگر 'آپ کے بنا' کے ساتھ رونقیں اجڑ گئیں, ہو گئیں ہیں خلوتیں بن ترے گلی گلی گاؤں کی اداس ہے ... خلوتیں سے کیا ربط؟ یہ ٹکڑا بدل دیں سب امید کے مرے بجھ گئے چراغ ہیں چھا گئی ہے تیرگی روشنی اداس ہے .... پہلا مصرع رواں نہیں،...
  16. الف عین

    برائے اصلاح و رہنمائی

    ہو تمھی خیرالوری یا مصطفے یا مصطفے ہو امام الانبیا یا مصطفے یا مصطفے .. ٹھیک ہے دوجہاں میں رب-کعبہ نے بنایا ہی نہیں آپ جیسا دوسرا یا مصطفے یا مصطفے ... درست چاند تارے اور زمیں کے سب نظارے کہتے ہیں رونق-ارض وسما یا مصطفے یا مصطفے .... کہتے ہیں میں ے کا اسقاط اچھا نہیں ، دونوں مصرعوں میں ربط بھی...
  17. الف عین

    غزل براہ اصلاح ،

    مطلع پہلے کیا تھا جسے تبدیل کر دیا گیا ہے؟ ابھی تو درست ہے، لیکن اصل مراسلے میں ترمیم نہ کیا کریں تیسرا شعر دو پہروں والا اب بھی واضح نہیں، شاید دھوپ والی دو پہروں کہا جائے تو کچھ ربط بن سکے باقی درست ہے
  18. الف عین

    ہے بجلیوں کی زد میں میرا یہ آشیانہ ---برائے اصلاح

    ہے بجلیوں کی زد میں میرا یہ آشیانہ اپنے کرم سے یا رب تُو ہی اسے بچانا ----------پھر بجلیوں کی زد میں ہے میرا آشیانہ بہتر ہو گا ملنے کی یار تجھ سے خواہش بہت ہے لیکن حالات کہہ رہے ہیں ملنے ابھی نہ جانا --------------- راحل نے کہہ ہی دیا ہے چہرہ چھپا کے ملنا اب ہو گیا ضروری کس کو خبر تھی اس کی...
  19. الف عین

    اصلاح طلب

    اللہ بطور فعلن ثقہ حضرات قبول نہیں کرتے، یعنی اللہ کا دوسرا الف گرانا تعظیم کے منافی ہے۔ میں نے رب سے ہی لو لگا لی ہے بہتر مصرع ہو گا دوسرے مصرعے میں 'بھی' بھرتی کا لگتا ہے
  20. الف عین

    غزل براہ اصلاح : یاں کوئی میرا گرویدہ نہ تھا

    پھر سے راحل کی کی ہوئی تقطیع دیکھو۔ اصول یہ یے کہ حرف علت ا، و اور ی ہی گرایے جا سکتے ہیں۔ اور عام طور پر لفظ کے آخر میں استثنا کے طور پر پہلا حرف بھی جو متحرک ہو، اور اس سے پچھلا حرف ساکن ہو جیسے بار کی ر ساکن تھی، اور الگ کا الف متحرک۔ اس لئے الف گرایا جا سکتا ہے اور تقطیع 'رلگ' سے ہو گی
Top