پائی ہے نغمگی یہ اُردو تری بدولت
قربان جاؤں تُجھ پر واروں میں اپنی دولت
.... ایطا ہے کہ 'دولت' بطور ردیف بن گئی ہے جو ہے نہیں۔
آداب میں نے سیکھا ہے تُجھ سے گفتگو کا
اندازِ دل رُبائی سیکھی ہے تُجھ سے چاہت
... دوسرا مصرع واضح نہیں
تیرے حسین رخ کا تھا میر بھی دیوانہ
غالب نے تیرے دم سے پائی جہاں...