چڑھاؤ دار پر تم مجھ کو یا پھر آگ میں جھونکو
میں سچ کو سچ ہی لکھونگی ہے جب تک مجھ میں جاں باقی
... یہ بہتر ہے، لیکن
چڑھا دو مجھ کو سولی پر کہ جھونکو آگ میں مجھ کو
زیادہ رواں لگتا ہے
مری سکھیاں ،سہیلی،اور وہ اُن سے ملاقاتیں
نہ ہنسنا روٹھنا باقی نہ ہیں وہ مستیاں باقی
... پہلے مصرع کی بنت اب بھی...