نتائج تلاش

  1. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    ستیہ جیت رے۔کتاب پڑھتے ہوئے۔کولکتہ،1978
  2. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    فلم سٹوڈیو،کولکتہ 1978
  3. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    چمڑہ دھونے کے کارخانے میں کام کرتے ہوئے مزدور۔ٹانگرا،کولکتہ
  4. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    لڑکا مندر کی چھت سے چھلانگ لگاتے ہوئے۔ٹانگرا ،کولکتہ
  5. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    "بنچ پر بیٹھا بندر" کولکتہ 1978
  6. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    سیاسی تصاویر کے سامنے سویا آدمی۔کولکتہ 1978
  7. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    یہ تصویر کولکتہ کی جھگی بستی کی ہے۔
  8. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    ٹریم آج بھی کولکتہ کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔ انیس سو اسّی کی دہائی میں جہاں ان کی تعداد دو سو پچھتر تھی آج وہاں صرف ایک سو ستّر ٹریمز ہی بچی ہیں۔
  9. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    ان کا کہنا ہے ’کولکتہ وہ شہر ہے جس کے لیے اصل معنوں میں وقت رک گیا ہے۔ اس لیے جب میں یہ تصاویر لے رہا تھا تو مجھے یہ احساس نہیں تھا یہ تصاویر میری اس شہر کی یادگار ہیں۔ میرے لیے یہ شہر آج بھی ویسا ہی ہے۔‘
  10. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    پابلو کہتے ہیں کولکتہ وہ شہر ہے جسے انہوں نے بچپن سے قریب سے دیکھا ہے۔ ’بچپن میں اپنی دادی کے ہاں گزاری چھٹیوں کے دوران اس شہر نے مجھ پر خاص اثر چھوڑا۔‘
  11. محسن وقار علی

    جب وقت تھم گیا ۔۔۔

    بھارت کے مشہور فوٹوگرافر پابلو بارتھولومیا نے انیس ستّر کی دہائی میں کولکتہ کی روز مرہ کی زندگی کے بعض لمحات اپنے کیمرے میں قید کیے تھے۔ انہیں اب نمائش میں پیش کیا گیا ہے۔ اس تصویر میں کولکتہ کی مشہور گھوڑا گاڑی کو دیکھا جاسکتا ہے۔ نوٹ:اس دھاگے کی تیاری میں دو ویب سائٹز سے مدد لی گئی ہے۔...
  12. محسن وقار علی

    اگر کسی کا خیال ہے کہ ۔۔۔۔ذراہٹ کے۔۔۔۔یاسر پیر زادہ

    سوری۔عموماََ میں ایسا ہی کرتا ہوں آج بھول گیا بس
  13. محسن وقار علی

    ایک مختصر مگر خوبصورت انگریزی نظم مع ترجمہ

    کاشف بھائی۔آپ نے بہت ہی عمدہ ترجمہ کیا ہے۔ داد قبول کیجیے:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:
  14. محسن وقار علی

    کیا ہم کو یہ ہاتھ ملے تھے اپنی لاش اٹھانے کو؟۔۔۔متاع ضمیر۔۔۔۔سید احتشام ضمیر

    آج اپنے دوست جنرل شاہد عزیز کی بارُودی کتاب کی تعارفی تقریب سے لوٹا تو سوچا کہ ان کے اس ادبی خودکُش حملے کی رُوداد قلم بند کروں۔ لکھنے بیٹھا ہی تھا کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کی لرزہ خیز خبر سے اٹھ بیٹھا۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق ہزارہ نسل اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے 84 افراد شہید کر دیے گئے...
  15. محسن وقار علی

    اگر کسی کا خیال ہے کہ ۔۔۔۔ذراہٹ کے۔۔۔۔یاسر پیر زادہ

    اگرکسی کا خیال ہے کہ وعظ ،نصیحت یا دلائل کے زور پر اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ”بھرے “ ہوئے سگریٹ پینا چھوڑ دے اور محلے میں چھوٹے گوشت کی دکان کر لے ۔”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے “ اور ”کوئی مسلمان دہشت گردی نہیں کر سکتا “ جیسی خوبصورت باتیں ان لوگوں کے...
Top