سمجھ سکے تو سمجھ لے کہ استعاروں میں
میں اپنی زیست کا ابہام لے کے آیا ہوں
نشیبِ ظلمتِ الحاد کو کھنگالا ہے
فروغ ِ سینہء الہام لے کے آیا ہوں
مری صدا میں دھڑکتا ہے کائنات کا دل
بہ طرز خاص غمِ عام لے کے آیا ہوں
مری حیات کے گرتے ہوئے کگاروں کو
سنبھال لے کہ ترا نام لے کے آیا ہوں
:zabardast1: