آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سے بھیک، دوست ممالک سے امدادی قرضے اور پاکستانی تارکین وطنوں کے ترسیلات زر سب فارن فنڈنگ میں آتے ہیں۔ اگر ملک کو مکمل آزاد کرنا ہے تو اپنی ایکسپورٹ اور امپورٹ میں توازن لانا ہوگا۔ جس ملک کی ایکسپورٹ 20 ارب ڈالر اور امپورٹ 60 ارب ڈالر ہو، اسے فارن فنڈنگ کا شور مچانا نہیں چاہئے۔