یہ معاملہ عدالت لے جانے کا مشورہ اسی حکیم لقمان نے دیا ہوگا جس نے قطری خط اور کیلبری فانٹ میں جعلی دستاویزات بطور منی ٹریل عدالت میں جمع کروانے کو کہا تھا :)
بغض سے بھرے ہوئے اسی چیف جسٹس نے نواز شریف کو ۸ ہفتوں کیلئے علاج کی اجازت دی تھی اور موصوف دوائی لینے لندن بھاگ گئے۔ ایک سال ہو گیا ہے واپس نہیں آ رہے :)
سینیر لفافوں نے آئین کا آرٹکل ۱۹ اور عدالت میں دائر کی جانے والی پٹیشن پڑھے بغیر اپنا نام پٹیشن میں دے دیا تھا۔ یہی لوگ روز بھاشن دیتے ہیں کہ حکومت فیل ہو گئی :)
جماعۃ الدعوۃ کے حافظ سعید کو دہشتگردی کے جرم میں مزید ساڑھے 10 سال قید
ویب ڈیسک جمعرات 19 نومبر 2020
پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ مجاہد کو ساڑھے دس سال، پروفیسر عبدالرحمن مکی کو 6 ماہ قید کی سزا
لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کو قید کی...
بالکل ویسے ہی جیسے سنہ ۲۰۱۴ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں حاملہ خواتین کے جبڑوں میں گولیاں مارنے والے پولیس افسران کی پروموشن ہو گئی تھی۔ مگر وہ تو عین جمہوری انقلابی دور تھا۔
ملک کے نامور صحافی جو بات پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر نہیں کہہ سکتے وہ بات سوشل میڈیا اور یوٹیوب وغیرہ پر نشر کر سکتے ہیں۔ مطیع اللہ جان، طلعت حسین، نجم سیٹھی، سلیم صافی اور دیگر جمہوریت پسند فوج مخالف صحافی روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا اور اپنے یوٹیوب چینلز سے عوام کو “حق سچ” کی باتیں بتاتے...
کونسی صحافت اور آزادی اظہار کا گلہ گھونٹا ہے؟ حکومت اور ریاست کے خلاف روزانہ درجن بھر من گھڑت اور جھوٹی خبریں چلائی جاتی ہیں جن پر پیمرا یا کوئی اور ادارہ کوئی ایکشن نہیں لیتا۔ صرف ایک صحافی عارف حمید بھٹی کے حالیہ دنوں میں بولے گئے تین جھوٹ ملاحظہ فرمائیں:
اب بتائیں ایسے سینیر صحافیوں کا گلا...
ان صحافیوں کا سافٹویر صرف شریف، بھٹو یا زرداری خاندان کے خلاف ریاستی کاروائی پر ایکٹیویٹ ہوتا ہے۔ آج عدلیہ عمران خان کو نااہل کر دے یا فوج عمران خان کی حکومت کو گھر بھیج دے تو یہی صحافی ان ریاستی اداروں کو عین جمہوری اور انصاف پسند کہنے میں سیکنڈ نہیں لگائیں گے۔
سزا یافتہ مجرموں، عدالت کو مطلوب مفرور اشتہاریوں کو عدلیہ اور فوج کے خلاف ٹی وی پر بولنے کا حق دو۔ یہ ہے پٹیشن کا متن۔ یہ ہے ان سینیر لفافوں کی جمہوریت پسندی اور آزادی صحافت کا معیار۔
یہ وہی ہیں جو سارا وقت روتے رہتے تھے کہ عمران خان نے سخت لاک ڈاؤن لگانے میں تاخیر کی جس سے کورونا کنٹرول سے باہر ہوگیا۔ اب کہہ رہے ہیں حکومت کے لاک ڈاؤن کے خلاف مزاحمت کریں گے