'پھر' ردیف میں بہتر ہے یقیناً، لیکن اسی غزل میں بس کی جگہ پھر کر دینا کافی تھا۔
پرانے مطلع میں ضرور 'پھر' سے کر دینے سے معنویت برقرار نہیں رہتی۔ لیکن موجودہ مطلع میں الوداع تو درست قافیہ ہی نہیں۔ صوتی طور پر بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یونی مطلع پھر کہو۔
تیسرے شعر کا ثانی مصرع بھی پچھلا بہتر تھا۔...