اُن کا تصور اور یہ رعنائیِ خیال
دل اور ذہن محو پذیرائیِ خیال
مرکز ہوں اک وہی مِرے ذوقِ خیال کے
یکتا ہیں وہ، تو چاہیے یکتائیِ خیال
ممکن نہیں کہ وصف بیاں اُن کے ہو سکیں
محدود کس قدر ہے یہ پہنائیِ خیال
بے حرف و صوت بھی یہاں ممکن ہے التجا
کافی ہے عرضِ حال کو گویائیِ خیال
ہر ذرہ بارگاہِ نبی ﷺ...