لیکن فی الحال خان صاحب کی اکڑ کو جھٹکا ضرور لگا۔
ویسے یہ آپشن تو پہلے بھی موجود تھا عدم اعتماد کی ووٹنگ میں ہارنے کی صورت میں۔
ویسے بھی الیکشن کمیشن سات آٹھ مہینے مانگ رہا ہے
وارث بھائی میرے اعتراض کی یہ وجہ تھی۔ ان دونوں صاحبان کی اپنی اپنی جماعت پر اسی مثال کو چسپاں کرنے کی حرکات چیک کریں۔ کربلا کی عظیم قربانی کو کس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اور جن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ (مسند احمد،۳۶۵۹)
باقی جماعتیں جو اکٹھی ہوئی ہیں انہیں اپنی سیاسی موت دکھائی دے رہی ہے اسی لیے وہ اکٹھی ہوئی ہیں۔ خان صاحب کے خط والے ڈرامے پر مجھے تو یقین نہیں ہے۔ کوئی یقین کرنا چاہے تو اس کی مرضی
اکثریت کا گمان یہی ہے کہ یہ جو سوانگ رچایا گیا ہے یہ سب اسی لیے کہ عمران خان جیسا نیٹ اینڈ کلین کریکٹر والا حکمران بھی اس ناقص اور پر عیب نظام میں نہیں چل سکتا اسی لیے اس نظام کو چلتا کرو اگر ملک چلانا ہے تو