استادِ محترم! اب دیکھیے گا
اگرچہ میں بھی شکستہ پا ہوں
تمہی کو ہر دم تلاشتا ہوں
ہے گونج اٹھتی صدا تمہاری
جہاں بھی تم کو پکارتا ہوں
تمہاری زلفیں خیالوں میں ہی
بکھیر کر پھر سنوارتا ہوں
کبھی جو دیکھوں میں خواب کوئی
تمہارا چہرہ ہی دیکھتا ہوں
میں زندگی کا ہوں رنگ لیکن
تمہارے رخ سے اڑا ہوا ہوں...