غزل
ترے بغیر شناسائیوں کی تنہائی
یہ انجمن ہے کہ تنہائیوں کی تنہائی
چراغ میں نے بجھاتا تو چاند سے اتری
ترے خیال کی پرچھائیوں کی تنہائی
اِدھر میں جسم کے آلودہ سلسلوں کا ہجوم
اُدھر وہ روح کی رعنائیوں کی تنہائی
بدن کے دائروں میں اک وہ خالِ لب اُس کا
وہ ایک نقطے میں گولائیوں کی تنہائی...