نتائج تلاش

  1. مغزل

    شوہر کے نام کی چھت منظور مگر اطاعت ناگوار ! کیوں ؟؟

    اچھی بات ہے ثمینہ جی ۔، ما شا اللہ ، آپ دیگر لڑیوںمیں بھی فعال ہیں، خوش رہیں
  2. مغزل

    محفل کی چوتھی سالگرہ کے حوالے سے مجوزہ مشاعرہ

    کیا کہنے وارث صاحب واہ واہ
  3. مغزل

    خبر کی قبر بنائیں ----- محفل کے گورکن

    شکریہ دوستو سلسلےکو آگے بڑھانے کے لیے
  4. مغزل

    ایجکس ونڈوز --- ایک انقلابی قدم

    شکریہ الف نظامی, باسم اور محمدصابر صاحبان، بہت شکریہ
  5. مغزل

    ایجکس ونڈوز --- ایک انقلابی قدم

    ایجکس ونڈوز ایک انقلابی قدم آج میں آپ لوگوں کی خدمت میں ایک نہایت عمدہ ٹیکنا لوجی لے کر آیا ہوں جس کے بارے میں جاننے کے بعد آپ لوگ یقیناً حیران ہوں گے ۔ آپ لوگوں نے ایجیکس یعنی Asynchronous Javascript & XMI کے بارے میں سن ہی رکھا ہوگا اور اگر نہیں تو آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے...
  6. مغزل

    مبارکباد مبارک مبارک سلامت سلامت۔۔ شگفتہ

    جی سچ کہا: (مکی بھائی آپ سےکوئی ملاقات کی بھی صورت ہے)
  7. مغزل

    مبارکباد مبارک مبارک سلامت سلامت۔۔ شگفتہ

    بہت بہت مبارک ہو سیدہ بہن ، سدا سلامت شادو آباد رہو۔
  8. مغزل

    لیاقت علی عاصم غزل ۔ راستے میں نہ آ شجر کی طرح ۔ لیاقت علی عاصم

    راستے میں نہ آ شجر کی طرح مل کہیں دوپہر میں گھر کی طرح ہم اُسے دیکھنے کہاں جائیں ساتھ رہتا ہو جو نظر کی طرح کیا کہنے سبحان اللہ ، واہ ، بہت عمدہ ، دوست پیش کرنے کو شکریہ
  9. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل خاموشی کی باتیں زندہ رہتی ہیں بادل میں برساتیں زندہ رہتی ہیں پیڑ نہ ہوں تو یاد آئیں اُس کی پلکیں سایوں کی سوغاتیں زندہ رہتی ہیں رستوں میں بے رستہ ہوجاتے ہیں لوگ اُن قدموں کی گھاتیں زندہ رہتی ہیں روحوں کی نزدیکی جسموں کی دوری قصّوں میں دو باتیں زندہ رہتی ہیں جن آنکھوں نے تم...
  10. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل ترے بغیر شناسائیوں کی تنہائی یہ انجمن ہے کہ تنہائیوں کی تنہائی چراغ میں نے بجھاتا تو چاند سے اتری ترے خیال کی پرچھائیوں کی تنہائی اِدھر میں جسم کے آلودہ سلسلوں کا ہجوم اُدھر وہ روح کی رعنائیوں کی تنہائی بدن کے دائروں میں اک وہ خالِ لب اُس کا وہ ایک نقطے میں گولائیوں کی تنہائی...
  11. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل اثباتِ یقیں نفی گماں کچھ نہیں کرتے بس جیتے ہیں ہم لوگ میاں کچھ نہیں کرتے ڈرتے ہیں دھڑکتا ہوا دل بند نہ ہوجائے جب دیکھتے ہیں آہ و فغاں کچھ نہیں کرتے سب چھوڑدیا گردشِ افلاک پہ ہم نے اب ترکِ زماں نقلِ مکاں کچھ نہیں کرتے سب عشق و ہوس رشک و حسد ہم سے خفا ہیں! رہنے دو خفا کہہ دو کہ...
  12. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل آگ کے سامنے ہوا نہ ہوا ہوکے وہ راکھ سا روانہ ہوا بے فراق و وصال ٹھہرا عشق اُس سے کوئی معاہدہ نہ ہوا گفتگو میں بھی کوئی بات نہ کی خامشی میں بھی چُپ ذرا نہ ہوا جس دوا میں تھا جان کا نقصان اُس دوا سے بھی فائدہ نہ ہوا کوئی تجھ سا ہو خاک دنیا میں کوئی مجھ سا مرے سوا نہ ہوا...
  13. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل فکر میں وحشتِ عمل کیا ہے اے غزالاں مری غزل کیا ہے چاند اٹکا ہو جیسے شاخوں میں اور صبرورضا کا پھل کیا ہے آج ہی کوئی انتظام کرو میں نہیں جانتا یہ کل کیا ہے زندگی تیرے عہد میں اے دوست مسئلہ ہے کوئی تو حل کیا ہے رات بھر کی قدم سرا شاید جھونپڑا کیا ہے اور محل کیا ہے آپ...
  14. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل آسماں تک ملی زمیں آباد ہوگئی تھی کہاں جبیں آباد چھٹ رہا تھا غبارِ دشتِ گُماں آرہا تھا نظر یقیں آباد سانس لیتا کہ میں سفر کرتا سارا عالم تھا عنبریں آباد آبسا تھا وہ میری آنکھوں میں آنسوؤں سے تھی آستیں آباد میرے آغوش میں دلِ برباد تیرے پہلو میں ہم نشیں آباد یوں بھی ہوتا...
  15. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں اُس مور کو ہم شجر بناؤں بہتے جاتے ہیں آئینے سب میں بھی تو کوئی بھنور بناؤں دُوری ہے بس ایک فیصلے کی پتوار چُنوں کہ پَر بناؤں بہتی ہوئی آگ سے پرندہ بانہوں میں سمیٹ کر بناؤں گھر سونپ دوں گردِ رہ گزر کو دہلیز کو ہم سفر بناؤں ہو فرصتِ خواب جو...
  16. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غزل یوں بظاہرمری کوتاہی نہیں ہے کوئی سلسلہ دائمی ہوتا ہی نہیں ہے کوئی پاؤں دھرنے کی طلب میں جو اضافہ کیجئے سر پٹکتے رہیں کہ جاَ ہی نہیں ہے کوئی عکس پانی میں رہے یا کہ سرِ آئینہ گویا مہتاب تو اونچا ہی نہیں ہے کوئی درد کو جانئیے درماں، نہ توقع رکھیئے مت سمجھیے کہ مداوا ہی نہیں ہے...
  17. مغزل

    ہفتۂ شعر و ادب - غزلیں

    غالب کی ستم پیشہ ڈومنی کے نام دہر میں نقش ِ وفا وجہِ تسلّی نہ ہوا ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا سبز ۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا یہ زمَّرُد بھیِ حریفِ دمِ افعی نہ ہوا میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا دل گزرگاہِ خیالِ مئے و ساغر...
  18. مغزل

    الف بے پے کا کھیل 34 ویں لڑی۔۔

    ضعفِ پیری کی ماری ہوئی لگتی ہیں ، جبھی دوبارہ نہیں آئیں ۔
  19. مغزل

    بلاگر پر اردو بلاگ میں اشعار کی فارمیٹنگ کریں

    میں نے اسکرپٹ ایڈ کیا ، کچھ تو بلاگ نے ٹھیک کام کیا ، بعد میں ،ایرر آرہا ہے ، بلاگ کھل ہی نہیں رہا۔جانے کیوں؟
Top