ایک بار پھر میرا مراسلہ حاضر ہے : سخنور صاحب، میں ’’ تفہیم ‘‘ کے لیے منتظر ہوں۔ جوش کی نظم نقاد تو میں بھی آپ کو فرفر سنا سکتا ہوں، ایک عرصہ پہلے پڑھی تھی حفظ بھی ہے۔
’’ رحم اے نقادِ فن یہ کیا ستم کرتا ہے تو ---- کوئی نوکِخار سے چھوتا ہے نبضِرنگ و بو ‘‘
میرے اٹھائے ہوئے اعتراضات کا ’’شافی...
صاحب اب ایسی بھی کیا مروت :grin:
(از بارگاہِ سخنوراں)
قبلہ میں نے ، حکم جاری نہیں کیا ، محض گمان ظاہر کیا ہے ، :(
( گو کہ میں نے اسے سینہ ہی پڑھا ہے ایک جگہ، غالبا، شب خون انڈیا کا شمارہ تھا)
خاراشگافی ہو نہ موشگافی کا محل تو نہیں تھا نا :biggrin:
وارث صاحب تصحیح کے لیے ممنون ہوں، بہت...
کیا جانے کہے گا کیا آکر ، ہے دَور یہاں پیمانے کا
اللہ کرے واعظ کو کبھی رستہ نہ ملے میخانے کا
ہیں تنگ ترےمیکش ساقی یہ پڑھ کے نماز آتا ہے یہیں
یا شیخ کی توبہ تڑوا دے ، یا وقت بدل میخانے کا
استاد قمر جلالوی