ملتے رہو کہ عاشق دیوانہ ہو نہ جائے
جو بات ہے غزل کی افسانہ ہو نہ جائے
جو جو نہیں ہے وہ بھی پروانہ ہو نہ جائے
یوں مت بھڑک کہ عالم ویرانہ ہو نہ جائے
وہ چاہتے ہیں محرم مستانہ ہو نہ جائے
یعنی کوئی قلندر ایسا نہ ہو نہ جائے
ساقی کے بھرتے بھرتے ساغر چھلک نہ اٹھے
لبریز تشنگی کا پیمانہ ہو نہ جائے
ہم...