لیجیے انور مسعود صاحب کی ایک بات یاد آ گئی ایک مرتبہ انتظار کے موضوع پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ انتظار تو تعطیلِ حیات ہوتی ہے۔ زندگی تھم سی جاتی ہے۔ آپ کے گرد دیواریں نہیں ہوتیں لیکن آپ قید ہو جاتے ہیں۔
یہاں سے اڑھائی گھنٹوں کی پرواز ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی آدمی اکتا جاتا ہے۔ مجھے تو ہمیشہ سے جہاز کا سفر بہت بورنگ لگتا ہے۔
اللہ پاک آپ کا سفر خیر خوشی سے اور آناً فاناً پورا کرائے۔
اچھا!!!!!
اس لڑی کے نام کی مجھے اب سمجھ لگی۔ دراصل عاطف بھائی نے محفلین کو چونکانے کے لیے اس قسم کا نام رکھا۔ ابھی میں "شناختی" کو کچھ اور ہی پڑھ گیا تھا۔اور حیرت کے اس شدید جھٹکے کی وجہ سے ٹام اینڈ جیری کی بلی کی طرح میری بھی آنکھیں باہر کو نکل آئی تھیں۔😊
طبیعت تو صاف ہو گئی ہو گی اس کی۔ آج کل کی زبان میں کہیں تو سافٹویئر اپڈیٹ ہو گیا ہو گا🤓
مجھے تو لگتا ہے اس دن آپ نے اپنی ہم نام سہیلی سے کہا ہو گا "ماڑا آج تو ام اس خانہ خراب کا بچہ کو نئیں چوڑے گا"