غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
مجھ پر بھی آ رہا ہے الزام تھوڑا تھوڑا
اور تو بھی ہو رہا ہے بدنام تھوڑا تھوڑا
"یاد آتا ہوں کبھی میں؟"، جب پوچھا میں نے اس سے
نظریں جھکا کے بولا "ہر شام تھوڑا تھوڑا "
آنکھوں سے اس کے ہوکے دل میں اتر رہا ہوں
سانچے میں ڈھل رہا ہے گلفام تھوڑا تھوڑا
جاتا ہوں جس جگہ بھی، آ...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
منتظر ہوں میں جس کا وہ شباب کیا ہوگا
با حجاب دیکھا ہے، بے حجاب کیا ہوگا
ماہتاب دیکھا تو یہ قیاس کر بیٹھا
اسکے حسن کے آگے ماہتاب کیا ہوگا
منتظر ہوں سننے کو خود زبان سے اس کی
جانتا ہوں میں یوں تو کہ جواب کیا ہوگا
جو ملے گا دوزخ میں، جان تو نہیں لے گا
اس عذاب سے بدتر وہ...
بہت ہی زبردست!۔ چھپے رستم پی ایچ ڈی۔۔ بہت خوشی ہوئی۔۔۔خوش و خرم رہیئے ہمیشہ فاتح الدین بشیر صاحب!:)
اللہ رب العزت آپ کو دین و دنیا دونوں کی کامیابیاں عطا فرمائے ہر قدم پر۔۔آمین۔