نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے سو سوالو ں سے یہی ایک سوا ل اچھا ہے امیر مینائی
  2. کاشفی

    جاوید اختر آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے - جاوید اختر

    عشق ہے، اِک نقشِ محکم، عشق ہے، نقشِ جلی حسن ہے امروز، کل وہم و گماں ہو جائے گا بہت شکریہ غزل کی پسندیدگی کے لیئے۔۔۔خوش رہیئے۔۔۔ بہت شکریہ۔ خوش رہیئے۔۔
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    جاتے ہو خدا حافظ ، ہاں اتنی گزارش ہے جب یا د کبھی آ ئیں ملنے کی د عا کرنا جلیل مانکپوری
  4. کاشفی

    اعتبار ساجد لو ، خدا حافظ تمہیں کہنے کی ساعت آ گئی

    جاتے ہو خدا حافظ ، ہاں اتنی گزارش ہے جب یا د کبھی آ ئیں ملنے کی د عا کرنا جلیل مانکپوری
  5. کاشفی

    جاوید اختر آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے - جاوید اختر

    پسندیدگی کے لیئے بیحد شکریہ جی! خوش و خرم رہیئے جناب!
  6. کاشفی

    خواب میں آکر یاد تمہاری پہلو بدلتی ہے - راشد آزر

    غزل کی پسندیدگی کے لیئے شکریہ جناب! خوش و خرم رہیئے ہمیشہ۔۔
  7. کاشفی

    اعتبار ساجد ہم اپنے آپ سے اتنی مروّ ت کر ہی لیتے ہیں

    کوئی ٹوٹا ہوا دل جوڑ دیتے ہیں محبت سے نمازی تو نہیں لیکن عبادت کر ہی لیتے ہیں عمدہ! بہت ہی اعلٰی انتخاب۔ شیئر کرنے کے لیئے شکریہ۔۔
  8. کاشفی

    جاوید اختر آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے - جاوید اختر

    غزل (جاوید اختر) آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا، ملنے جلنے لگے، آنے جانے لگے ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں، آگئیں...
  9. کاشفی

    اردو محفل کا ماحول

    پُر خلوص مشورے کے لیئے بہت شکریہ۔۔جزاک اللہ۔خوش رہیئے سیاست سے ہم دور ہی ہیں جی۔۔۔خیر۔:) ایک غزل پڑھئیے۔ آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا آپ کے واسطے...
  10. کاشفی

    اعتبار ساجد لو ، خدا حافظ تمہیں کہنے کی ساعت آ گئی

    اس لئے بھیجا نہیں اتنے دنوں سے خط مجھے راس شائد اس کو غیروں کی رفاقت آ گئی واہ بہت ہی خوب! شیئر کرنے کے لیئے شکریہ۔۔
  11. کاشفی

    خواب میں آکر یاد تمہاری پہلو بدلتی ہے - راشد آزر

    غزل (راشد آزر) خواب میں آکر یاد تمہاری پہلو بدلتی ہے بستر کی ہر سلوَٹ میں اک کروٹ جلتی ہے سینے میں سیلاب امنڈتا ہے ارمانوں کا جب کچھ کرجانے کی خواہش دل کو مسلتی ہے زیست ہماری کچھ ایسی ہے جیسی لغزشِ پا خود ہی ٹھوکر کھاتی ہے اور خود ہی سنبھلتی ہے بہتا دریا مت سمجھو اس سے گھبرانا کیا عمر ہماری...
  12. کاشفی

    ہم سوچتے تھے طاقتِ گفتار رہ گئی - راشد آزر

    غزل (راشد آزر) ہم سوچتے تھے طاقتِ گفتار رہ گئی پر ہم میں صرف جراءتِ انکار رہ گئی شہرِ ہوس نے لُوٹی متاعِ ہنر تو کیا بیدار دل میں خواہشِ پیکار رہ گئی رخصت ہوئی اُمیدِ وصال آرزو کے ساتھ لے دے کے ایک حسرتِ دیدار رہ گئی ذوقِ جگر خراشی کہاں، خوش دِلی کہاں سب کھو چکے ہیں، چشم گنہگار رہ گئی ہے فخر...
  13. کاشفی

    تمہارا نام لے کر در بہ در ہوتا رہوں گا - راشد آزر

    غزل (راشد آزر) تمہارا نام لے کر در بہ در ہوتا رہوں گا کہ برسوں داغ دل اشکوں سے میں دھوتا رہوں گا تو خوشیاں ہی سمیٹ اور غم مجھے دے دے، میں ہوں نا ترے حصے کی غمگینی کو میں روتا ہوں گا جگایا منتظر آنکھوں نے برسوں، اب یہ سوچا کہ مرنے کا بہانہ کرکے میں سوتا رہوں گا مجھے بس ایک لمحہ سوچنے دو، زندگی...
  14. کاشفی

    نہ کوئی مونس نہ کوئی ہمدم کہیَں تَو کس سے کہیَں فسانہ - ضامن جعفری

    شکریہ صائمہ شاہ صاحبہ! مکمل اور صحیح غزل پڑھیئے۔۔ غزل (ضاؔمن جعفری) (زمانہِ طالبِ علمی 1958ء) نہ کوئی مونس نہ کوئی ہمدم کہیَں تَو کس سے کہیَں فسانہ تمہیں خبر کیا ،ہنسا ہے کیا کیا ،رُلا رُلا کے ہمیں زمانہ بسی تَو بستی ہمارے دل کی چلو بالآخر اِسی بَہانے مِلا نہ کون و مکاں میں رنج و غم و اَلَم...
  15. کاشفی

    ابھی کچھ لوگ اردو بولتے ہیں

    آتش زمینِ شعر ہو ہر چند سنگلاخ لغزش سے آ شنا نہیں اہلِ سُخن کے پاؤں خواجہ حیدر علی آ تشؔ
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    آتش زمینِ شعر ہو ہر چند سنگلاخ لغزش سے آ شنا نہیں اہلِ سُخن کے پاؤں خواجہ حیدر علی آ تشؔ
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    یہ عجیب رسم دیکھی کہ بروزِ عید قرباں وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا مصحفی
  18. کاشفی

    اردو محفل کا ماحول

    سیاسی لڑیوں سے خودساختہ طور پر جلامحفلی اختیار کرنےکے بعد میں خوشگوار موڈ میں رہنے لگا ہوں۔۔ آپ کو چیزیں شیئر کرنا بھلا لگ رہا ہے۔۔مجھے خوشی ہوئی۔۔۔خوش رہیئے۔۔
  19. کاشفی

    غزل ۔ سر وہی، سنگ وہی، لذّتِ آزار وہی ۔ نور بجنوری

    نورؔ میں اب بھی محبّت کو عبادت جانوں ہے مرے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلوار وہی واہ، بہت ہی عمدہ و لاجواب!
Top