باب شانزدہم: رہائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندھیری رات تھی، ماحول پر چھایا تھا سنّا ٹا
دبے پاؤں چلے دونوں وہاں، پہنے ہوئے ڈھاٹا
گھنے جنگل کے بیچوں بیچ یہ ویران مندِر تھا
برس بیتے پڑا تھا نہ کسی انسان کا سایا
شکستہ تھے درو دیوار، گویا اِک کھنڈر تھا یہ
اور اب عرصے سے اِن شیطاں صفت روحوں کا گھر تھا یہ...