رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
کم سخن کوئی نہ اور ہم زباں کوئی نہ ہو
بے درو دیوار سا اک گھر بنا نا چاہیے
کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
پڑئیے گر بیمار ، تو کوئی نہ ہو تیماردار
اور اگر مر جائیے ، تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
چچا
ہمم ،،، شکریہ ،۔ یہ محض آپ کی رائے ہے جناب ، بس ذرا اپنی تفہیمی سطح بلند کیجے اور شعر کے مفاہیم تک رسائی حاصل کیجے ،
۔۔ اب ۔۔۔۔(حذف) ۔۔۔ ملنے رہا وگرنہ دو چار دفتر روانہ کرتا،:)
شعر کو اگر آپ کسی ’’ تُک ‘‘ کے منصب سے دیکھتے ہیں تو ، آپ سے کیا بات کرنی ، ۔۔ لكم دينكم ولي دين
ملک صاحب خوش آمدید ، آپ بوچھی صاحبہ سے گفتگو سے فی الحال پرہیز کیجے ، وہ کیا ہے کبھی ہم سے بھی غلطی ہوئی تھی ( بقول وارث صاحب کے کہ ’’ مضروبان ِ بوچھی تھے ہم بھی )وہ دن اور آج کا دن دوبارہ بات نہیں کی ہم نے ، شاید نفرت کرنے لگا تھا میں ، مگر بیٹی کی سالگرہ پر خیال آیا کہ غلطی تو میری ہی تھی ،...
خرم وارث صاحب نے منع کردیا ، ہے میں میجر عاطف کوکیا جواب دوں ؟
انہوں نے خاص طور پر وارث صاحب کانام لیا ہے ، چلو خیر منع کردیتا ہوں ، نہ ہوگا مشاعرہ نہ پئے گا رولا۔
آپ امتحان لینے کے دعویدار ہیں ، میں ایک شعر میں بتائے دیتا ہوں جناب"
ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں
(لیاقت علی عاصم)
ویسے یہ ایک ہے ، میں باقی3 تلمیحات اسی شعر کی بتا سکتا ہوں ،۔ جو مسلمہ ہیں
ناصح، ہماری توبہ میں کچھ شک نہیں مگر
شانہ ہلائیں آ کے گھٹائیں تو کیا کریں؟
آہا آہا ، کیا تیور ہیں ، کیا زبان ہے واہ
بہت خوب جناب کاشفی ، بہت خوب ، کیا حسنِ انتخاب ہے واہ