غزل
(ضامن جعفری)
رُخ ہوا کا بدل کے بات کرو
مجھ سے مجھ ہی میں ڈھل کے بات کرو
تم اگر "میں" ہو، کچھ ثبوت بھی دو
آئینے سے نکل کے بات کرو
حشر میں حُسنِ کُل کا سامنا ہے
تم، مرے ساتھ چل کے بات کرو
دل تو چاہا کہ پھٹ پڑوں غم پر
عقل بولی سنبھل کے بات کرو
کبھی دیکھ تو مل کے ضامن سے
دیکھنا کیا ہے بلکہ...
غزل
(انوار فیروز)
ہر اک بستی میں طوفاں آگیا ہے
نہیں ہے کوئی جو زندہ بچا ہے
ہر اک کو موت کا دھڑکا لگا ہے
جسے دیکھو وہی سہما ہوا ہے
کہاں جاؤں میں اپنی پیاس لے کر
سمندر ریت کا پھیلا ہوا ہے
بصارت ہر کسی کی چھن گئی ہے
اُجالا کس لیے اب ہورہا ہے
دعا مانگی تھی میں نے بارشوں کی
مرا کچّا گھروندا ڈھ...