سرپٹ دوڑتے ہوئے اُس نے ایک دفعہ پھر سے مُڑ کر دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو میرا قصور کیا ہے؟ اس کی ملتجیانہ نظریں بار بار سوال کر رہی تھیں، ایک دفعہ میرا قصور تو بتا دو؟ اس کا سانس پھولتا جا رہا تھا، ٹانگیں پسینے سے شرابور اور بھاری ہوتی جارہی تھیں قریب تھا وہ گر جاتا لیکن اپنی جانب بڑھتے ہوئے ہجوم...
مرحوم کی وفات کے ذکر سے پہلے پہلے کے کالم میں طنز کچھ زیادہ ہی ہے جس سے خود بخود دھیان لکھنے والے کی اپنی پارسائی کی طرف جاتا ہے۔
وفات کے بعد کا کالم عبرت ہی عبرت ہے۔ جو لوگ اپنی اصل سے کٹ کر رہتے ہیں اُن کا انجام اس سے مختلف نہیں ہوتا۔
آخری وقت میں کلمے اور کراس کے حوالے سےدیے گئے بیان...
وقت تو خیر ہر چیز میں لگتا ہے۔
ویسے ہمیں جو بینک ملازمین فون کرکے کریڈٹ کارڈ بنانے کی آفرز کیا کرتے ہیں اُن کو سمجھانے میں بھی وقت لگتا ہے کہ ہم کیوں اُدھار نہیں لینا چاہتے۔
کریڈٹ ریٹنگ کی ضرورت کاروبار کی حد تک تو سمجھ آتی ہے لیکن انفرادی حیثیت میں انسان اگر خود کفیل ہوتو زیادہ اچھی بات ہے۔
ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ رُکتے تو کم و بیش سب ہی ہیں لیکن کچھ دیکھتے رہتے ہیں اور کچھ بیچ بچاو کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ جو زیادہ جذباتی ہوتے ہیں وہ ۔دونوں لڑنے والوں کے درمیان گھس کر دونوں سے مار کھاتے ہیں۔