اصل میں دو بحور میں کنفیوژن ہے خورشید کو۔ ثانی مصرعے مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن میں ہیں، اور اولی اس کے ساتھ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن /فاعلات یا آدھے آدھے دونوں میں
سوئے دار کی واو کا اسقاط بھی غلط ہے مطلع کے پہلے مصرعے میں
دونوں تبدیل شدہ اشعار بحر سے خارج ہو گئے ہیں
"ملتا ہے سکوں مے سے" کے...