نتائج تلاش

  1. الف عین

    برائے اصلاح: کوئی بھی راز مرا ، راز کہاں رہتا ہے

    دھیان ہندی لفظ ہے،فارسی طریقے سے غنہ نہیں بنایاجاسکتا
  2. الف عین

    کیوں زمانے پر یہ چھایا بے رخی کا راج ہے

    لگتا ہےکہ طرحی مصرع پر غزل کہی گئی ہے! صابرہ بٹیا مجھ سے پہلے پہنچ جایا کریں تو اچھا ہے
  3. الف عین

    چند اشعار برائے اصلاح

    دامان زندگی سے ملنا.. یہ عجیب محاورہ لگ رہا ہے کچھ روانی بہتر کی جا سکتی ہے، پہلے مصرع کی اس کی بھی روانی بہتر کی جا سکتی ہے، جیسے منہ موڑ لے زمانہ، پروا نہیں کچھ اس کی ڈرتا ہے دل مگر بس اک تیری بے رخی سے واضح نہیں الفاظ بدل کر اسے بھی مزید رواں بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے کوئی بندگی؟ پہلے...
  4. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    دن ہی بچےہیں اصل خیر کے ماہ، رمضان آنے میں
  5. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ظلم ہو گا اگر کسی قدیم رکن کو ہم جیسے قدیم رکن بھول جائیں۔
  6. الف عین

    چار سُو حُسن کے دھارے دیکھوں غزل نمبر 137 شاعر امین شارؔق

    عجیب ہے، کتنے منظر ہیں یارکے؟ کیا بال بکھرے ہی رہتے ہیں؟ بال سنوارتے ہوئےدیکھوں کا خیال ہوتا تو بہتر تھا اضافت کو ے کی طرح تقطیع کرنا درست سہی، لیکن اچھا نہیں لگتا، یعنی وصلے.... واضح نہیں ہو رہا شمع کا تلف درست نہیں دو لخت ہے واضح نہیں یہ بھی یا کی جگہ "کہ" رکھو دوسرے مصرعے میں کس پر...
  7. الف عین

    برائے اصلاح: کوئی بھی راز مرا ، راز کہاں رہتا ہے

    دونوں متبادلات اچھے ہیں آخری شعر کے، کوئی سا بھی رکھو مگر مقطع کے الفاظ بدلو، تقابل ردیفین بھی ہے، اور "اٹ ک وہا" تقطیع بھی اچھی نہیں
  8. الف عین

    پردیس جا رہے ہیں مجھ کو بتا کے روئے

    کون؟ ٹکانا غیر فصیح لفظ ہے، ویسے درست کون؟ فاعل مفعول ہمیشہ واضح رکھنے کی کوشش کیجیے دوسرے متبادل میں فاعل شامل ہے، لیکن پہلے مصرع میں صیغے کا شتر گربہ ہے یوں کہیں وعدہ نبھا نہ پائے ، اس پر تھی شرم ان کو اپنی خطا پر اپنا وہ سر...... پہ پھر کے تنافر سے بچنے کے لئے تبدیلی کی ہے سٹپٹانا...
  9. الف عین

    حُسنِ جاناں کی جھلک کافی ہے غزل نمبر 136 شاعر امین شارؔق

    زیست سے خطاب لگتا ہے، کچھ ترتیب یا الفاظ بدلو، پہلے اس پر غور نہیں کیا تھا مطلع میں ایک جاناں کی جگہ کچھ اور کر دو، دلبر بھی ایک جگہ استعمال ہوا ہے، پھر بھی یہی چل بھی سکتا ہے
  10. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    تو ہر بارژو ب جانا پڑے گا
  11. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    گرمیاں شروع ہو گئیں اور دن بڑا ہونے لگا، اب شاید لوگوں کو زیادہ فرصت ملے یہاں آنے کی
  12. الف عین

    مجذوب ہو گئے ہیں یوں چاہت میں آپ کی

    کون؟ مجذوب لفظ تصوف کی اصطلاح میں مختلف معنی رکھتا ہے۔ جذب ہونا ہی کافی ہے تینوں درست، ماشاء اللہ ایک لفظ جمع راحتوں، اور ایک واحد محبت درست نہیں سامان جیسے راحت و الفت کا مل گیا ایک مشورہ پہلا مصرع مجہول ہے، وہ کی ضمیر کس کے لیے؟ لوگ، بات یا بیر؟ رکھنی ہے مجھ کو... میں نے کرنا/کرنی ہے غلط...
  13. الف عین

    برائے اصلاح: دلِ برباد میں ماتم کا سماں رہتا ہے

    مطلع اور دوسرے اشعار درست ہو گئے ہیں ، متبادل( خشک ہوتے.... الخ) کو اضافی شعر کہو، یعنی دونوں رکھو۔ آخری شعر کی رواں صورت مجھے یوں لگتی ہے عشق کی آگ نہیں ہے تو یہ کیا ہے مقبول کیوں ترے دل سے پھر.....
  14. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    بہت ضروری ہے کہ یہ واضح کر دیا جائے کہ ڑ، ژ، ء کے سٹیشنوں پر الف بے کی گاڑی نہیں رکتی، چھوڑ کر نکل جاتی ہے
  15. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    یہاں تو ناشتہ کر کے بھی صدیاں ہو گئیں، یعنی کئی سوسیکنڈ!
  16. الف عین

    حُسنِ جاناں کی جھلک کافی ہے غزل نمبر 136 شاعر امین شارؔق

    رخ جاناں کی چمک.. دو بار استعمال ہوا ہے! جاناں والے اشعار کے درمیان فاصلہ رکھو اے فلک، افلک تقطیع ہو رہا ہے، اےکی ے کا اسقاط جائز نہیں باقی درست ہیں اشعار
  17. الف عین

    برائے اصلاح: دلِ برباد میں ماتم کا سماں رہتا ہے

    یہ کل سے ہی کھلا ہوا تھا، ایک شعر کی اصلاح کےساتھ، ابھی مکمل کر رہا ہوں
  18. الف عین

    برائے اصلاح: دلِ برباد میں ماتم کا سماں رہتا ہے

    سمے سلسلۂ قسم کے الفاظ کے ساتھ درست نہیں لگتا زندگ بھر... تقطیع اچھی نہیں، الفاظ بدل دو، ایک مشورہ .. عمر تمام پہلے مصرع کی دونوں صورتوں میں روانی کی کمی ہے عید کب آئے گی، بدلا بھی ہے موسم کہ نہیں مثال کے طور پر دونوں مختلف اشعار لگتے ہیں، دونوں کو رکھو، فاصلے کے ساتھ دوسرے کا یہ روپ...
  19. الف عین

    غزل برائے اصلاح : کوئی نہیں ہے آپ سا پیارا زمین پر

    دھارا والا پہلا متبادل بہتر ہے، ستارہ والا شعر جی اچھا ہو گیا
  20. الف عین

    محفوظِ انتشار دل و ذہن ہو گئے ۔ برائے اصلاح

    حرکت جس حرف پر ہو، اسی سے قافیہ بنانا ضروری ہے، درد اور سرد درست قوافی ہیں، مگر درد اور بند نہیں۔اور نہ درد، سردکے ساتھ گِرد باندھا جا سکتا ہے۔
Top