واہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
وہ ایک ہوکے بھی ہم سے گِنا نہیں جاتا
وہ ایک ہوکے بھی آگے عدد نہیں رکھتا
یہ عمر بھر کی ریاضت مِرا مقدّر ہے
تراشتا ہُوں جسے خال و خد نہیں رکھتا
بہت خوب انتخاب محترم طارق بھائی
واہہہہہہہہہہہہہہ
ہجر کی رات ہےاور’ان کے تصور کا چراغ
بزم کی بزم ہے،تنہائی کی تنہائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی ترتیب سے کاغذ پہ گرے ہیں آنسو
ایک بھولی ہوئی تصویر ’ابھر آئی ہے
محترم عمر اعظم بھائی
بہت خوب انتخاب میں شراکت دینے پر بہت شکریہ بہت دعائیں
کالم پڑھتے کہیں کہیں تو یوں لگا جیسے میرا ہی بحیثیت اک پاکستانی شہری ذکر خیر ہو رہا ہے اس کالم میں ۔
شائد کہ اب بدل جائیں حالات میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی سوچ کر محنت و مشقت میں جتا رہتا ہوں ۔
بہت دعائیں بھتیجے شراکت پر