دوست کا دل میں دم غنیمت ہے
لوگ سمجھیں تو غم غنیمت ہے
عاشقی میں ستم غنیمت ہے
کعبے میں یہ صنم غنیمت ہے
یہ وجود و عدم غنیمت ہے
کچھ نہ ہو تو بھرم غنیمت ہے
یہ جو لکھتے ہیں ہم غنیمت ہے
سر کے ہوتے قلم غنیمت ہے
چھوڑیے مے حلال ہے کہ حرام
جو بھی ہے محترم غنیمت ہے
عقل نازک ہے ٹھوکروں کے لیے
عشق کا دم...