ہم انتظار کریں گے تیرا قیامت تک
خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے
گیت کے بول یاد آگئے تو ازراہِ تفنن لکھ دیے۔
مختصر یہ ہے کہ جب آپ کا دل چاہے تب کلام کیجے، ہم سمیت کئی ایک لوگ دیدہ و دل فرشِ راہ کیے منتظر ہیں۔
عدت گزرنے کا انتظار تو وہ کرتے ہیں جو نیا بیاہ رچانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ :) :)
ویسے مجھے یہ لگتا ہے کہ اب دو چار دن میں وارث بھائی ناراضگی بھلا دیں گے۔
یوں بھی کافی دن ہو گئے ہیں۔
پہلے زمانے میں جب کسی ملک کا بادشاہ مر جاتا تو اگلے روز ملک میں داخل ہونے والے پہلے آدمی کو بادشاہ بنا دیا جاتا تھا۔
چیف جسٹس کی سزاؤں کوسُن کر لگتا ہے کہ ان کا چناؤ بھی کسی اسی قسم کے طریقے سے ہوا ہے۔