لے آج تُجھ کو بخش دیا تحفہ نماز
اس پنجگانہ سے تری امت ہے سرفراز
تو عرش کا وقار ہے اے گوہر حجاز
اس تحفہ نماز میں ہے شانِ امتیاز
وہ اُمّتی نماز میں جو سَر جھکائے گا
رہ کر زمین پہ بھی وہ معراج پائے گا
آیا جہاں میں جب حَسنِ با صفا کا دور
اربابِ ظلم ہونے لگے بے نقاب اور
کچھ حال پر نگاہ نہ کچھ عاقبت پہ غور
دیکھے امامِ دیں نے بدلتے ہوئے جو طور
اپنا کمال حلم و بصیرت دکھا دیا
کچھ دن کو صلح کر کے یہ فِتنہ دبا دیا
لیکن ابھی زمانے میں موجود تھے علی
وارث رسولِ پاک کے اسلام کے ولی
حق بین نگاہ آئینہ قلب منجلی
باطل کی بات سامنے اُن کے نہیں چلی
چہرہ منافقوں نے پھر اپنا دکھا دیا
مسجد میں اُن کو جامِ شہادت پلا دیا
اہلِ غرض جو بعدِ نبی دیکھتے تھے خواب
ناپاک جن کے عزم تھے اور نیّتیں خراب
مقصد یہ تھا کہ پھر سے وہی آئے انقلاب
حدِّ گناہ ختم ہو بہنے لگے شراب
ایمان لائے تھے جو دکھانے کے واسطے
اُٹھے خدا کا دین مٹانے کے واسطے
جاری منافقوں سے رہی تا حیات جنگ
دَبنے نہ پائی خدمتِ اسلام کی اُمنگ
باطل کے رُخ کی پردہ دری میں نہ تھا درنگ
مذہب کے تھے محافظ ناموس و نام و ننگ
ایماں کی سمت سے کبھی آنکھیں نہ بند کیں
ہر مرحلے پہ حق کی صدائیں بُلند کیں
شبر دیار امن میں اک لعل شب چراغ
آیا نہ ان کے دامن عظمت پہ کوئی داغ
قلب رسول، دید سے تھا ان کی باغ باغ
خوش خو، خوش اعتماد، خوش اخلاق، خوش دماغ
ملتا ہے ان کی ذات میں ہر انجمن کا نور
پھیلا ہوا ہے آج بھی خلق حسن کا نور
ان کے مکاں میں سیدہ دو جہاں کا نور
ان کی نظر میں خالق کون و مکاں کا نور
ان کی زمیں پہ روشنی کہکشاں کا نور
ان کی جبیں پہ نقش عبادت فشاں کا نور
یہ سب اُجالے حسن کی تنویر بن گئے
آنکھوں کا نور شبر و شبیر بن گئے
سرسبز ان کے خون سے اسلام کا چمن
روشن ہے ان سے علم و طریقت کی انجمن
سمٹے فضا، جبیں پہ یہ ڈالیں اگر شکن
ان کا حصار، شمع امامت کی ہے لگن
اسلام کو پناہ ملی اس حصار میں
بیت الشرف ہے ان کا مکاں روزگار میں
نور نبی سے ذات علی ہے قریب تر
وہ شہر علم ہیں تو یہ اس شہر کے ہیں در
تفریق و و فصل کا نہیں ان پر کوئی اثر
اک نور حق فروغ ادھر ہے وہی ادھر
جس میں ضیائے حق ہے وہ عالی گُہر علی
احمد نہال نور خدا ہیں، ثمر علی
بس کچھ دنوں کے لیے واپس آئی ہے یاد داشت، مجھے ایک انتہائی ضروری لڑائی لڑنی ہے، اپائنٹمنٹ پلیز
گم میں کہاں ہوتی ہوں، بھلا کبھی ایسا ہوا؟
میں خود بہت مس کرتی ہوں کب آنا ہوا تھا؟