بہت شکریہ فرخ بھائی ، عنقریب ایک کتاب ترتیب دینے کا ارادہ ہے ۔ تقریباَ مکمل ہوچکی ، بابا جانی سے انڈیا کے حوالے سے ایسے اشعار حاصل کرنے باقی ہیں ۔
فاتح بھائی ۔ مذکورہ بالا شعر میری یادداشت کے مطابق حفیظ جونپوری کا ہے ۔ ویسے میں پھر سے دیکھتا ہوں
اسیرِ پنجہ ِعہدِ شباب کرکے مجھے
کہاں گیا مرا بچپن خراب کرکے مجھے
مضطر خیرآبادی،
جاں نثار اختر کے والد
معروف موسیقار جاوید صاحب کے دادا
پاکستان کےمعروف شاعر عزم بہزاد کے داد
اوہ۔۔ تقریباً یہی مشکلات میرے ساتھ بھی ہیں ۔بڑا جی کڑا کر کے بیٹھنا پڑتا ہے محفل میں پوسٹ کرنے کے لیے ۔۔ بسا اوقات تو صفحہ کھل کر ہی نہیں دیتا۔۔ خیر۔۔دیکھتے ہیں ۔جلد ہی کوئی حل نکل آئے گا۔ سلامت رہیں
میرے خیال میں تو زھرا ، آپ قاری کو ہی طے کرنے دیں تو ٹھیک ہے ، اگر آپ اپنا نکتہ نظر بیان کریں گی تو شعر کا حسن متاثر ہوگا۔ صاحب کا استعمال ٹھیک ہے ، کوئی بھی لفظ کسی کی میراث نہیں ۔ ادب میں تو بالخصوص اس کی آزادی ہوتی ہے ۔
ایک بار پھر شکریہ ، فرخ بھائی، وارث صاحب اور فاتح بھیا، ۔۔ ہم نے بچپن میں ریڈیو پر سن رکھی تھی۔ مکمل پڑھ کر تو روح سرشار ہوگئی ، آج ہمارے بھانجے صاحب کو یہ غزل گانے کا دورہ پڑا تو لڑی سے کاپی کرنے حاضر ہوا، سوچا رسید پیش کردوں ۔
جی میں سمجھ گیا ہوں ، اور جو میں نے کہا وہ بھی آپ سمجھ گئے ہوں گے ۔ کسی بھی صنف ( طے شدہ یا غیر طے شدہ) کا مذاق اڑانا کس بات کی دلالت کرتا ہے یہ الگ بحث ہے ۔کوئی مانے یا نہ مانے یہ ہر شخص کی ذاتی صوابدید پر منحصر ہے مگر ’’ ٹھٹھول ‘‘ سے نہ تو کسی کا قد گرتا ہے اور نہ ہی بڑھتا ہے ۔...