نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    بہت ہی صبر آزما یہ عرصہء حیات ہے قدم قدم پہ حادثے، یہ کیسی کائنات ہے اُنہیں وفا سے بیر ہے، ہمیں وفا سے عشق ہے یہ اپنا اپنا ظرف ہے، یہ اپنی اپنی بات ہے (شیاما سنگھ صبا)
  2. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    یہ احسان بھی تیرا کم تو نہیں ہے ہزاروں ہے غم، آنکھ نم تو نہیں ہے کبھی سوچتی ہوں تباہی میں میری کہیں تیرا دستِ کرم تو نہیں ہے (شیاما سنگھ صبا)
  3. کاشفی

    ستم کرنے والے ستم کر رہے ہیں۔۔۔۔ ہم اہلِ کرم ہیں، کرم کر رہے ہیں

    ستم کرنے والے ستم کر رہے ہیں۔۔۔۔ ہم اہلِ کرم ہیں، کرم کر رہے ہیں
  4. کاشفی

    ستم کرنے والے ستم کر رہے ہیں - شیاما سنگھ صبا

    غزل (شیاما سنگھ صبا) ستم کرنے والے ستم کر رہے ہیں ہم اہلِ کرم ہیں، کرم کر رہے ہیں ستمگر کی آنکھوں کو نم کر رہے ہیں جو مشکل تھا وہ کام ہم کر رہے ہیں خُدا اُن کو رحمت سے کیسے نوازے جو سر اپنا ہر در پہ خم کر رہے ہیں بہت یاد آتے ہیں، ماضی کے جھونکے وہی میری آنکھوں کو نم کر رہے ہیں ضرور اس میں ہے...
  5. کاشفی

    زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں - کرشن بہاری نور

    غزل (کرشن بہاری نور) زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں اور کیا جُرم ہے، پتا ہی نہیں اتنے حصّوں میں بٹ گیا ہوں اپنے حصّے میں کچھ بچا ہی نہیں زندگی، موت تیری منزل ہے دوسرا کوئی راستا ہی نہیں سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں زندگی! اب بتا کہاں جائیں زہر بازار میں ملا ہی نہیں جس...
  6. کاشفی

    مجھ کو آئے گا کسی روز منانے والا - شانتی صبا

    مجھ کو آئے گا کسی روز منانے والا اتنا ظالم تو نہیں روٹھ کے جانے والا
  7. کاشفی

    اُس کو آنا ہے اور بےنقاب آئے گا - شانتی صبا

    رنگ لائے گا جب خون مظلوم کا وہ زمانہ بھی جلدی جناب آئے گا
  8. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    اُس کو آنا ہے اور بےنقاب آئے گا جب تمنا سے میری شباب آئے گا ظلمتوں کے پُچاری کہاں جائیں گے جب چمکتا ہوا آفتاب آئے گا آج کل مجھ سے وہ بات کرتا نہیں اور اب کیا زمانہ خراب آئے گا رنگ لائے گا جب خون مظلوم کا وہ زمانہ بھی جلدی جناب آئے گا ظلم کے تانے بانے بکھر جائیں گے وقت لینے جب اپنا حساب آئے...
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    رنگ لائے گا جب خون مظلوم کا وہ زمانہ بھی جلدی جناب آئے گا (شانتی صبا)
  10. کاشفی

    جب نمازِ محبت ادا کیجئے - شانتی صبا

    جی قیصرانی بھائی۔۔ یہی تھی وہ نمازِ محبت پانچ اشعار کی۔۔۔۔ نماز ادا کرنے سے قلب کو سکون حاصل ہوتا ہے۔۔
  11. کاشفی

    جب نمازِ محبت ادا کیجئے - شانتی صبا

    غزل (شانتی صبا) جب نمازِ محبت ادا کیجئے غیر کو بھی شریکِ دعا کیجئے آنکھ والے نگاہیں چُراتے نہیں آئینہ کیوں نہ ہو، سامنا کیجئے آنکھ میں اشکِ غم آ بھی جائیں تو کیا چند قطرے تو ہیں، پی لیا کیجئے آپ کا گھر سدا جگمگاتا رہے راہ میں بھی دِیا رکھ دیا کیجئے زیرِ پا ہیں سمندر کی گہرائیاں اب تو ساحل...
  12. کاشفی

    جلوہ تھا اُس کا پیشِ نظر دیکھتی رہی - شیاما سنگھ صبا

    خوش رہیئے برادر۔ شعر شانتی صبا جی کی غزل سے ہے۔۔اور جذبات میرے دل کی گہرائیوں سے۔۔۔خوش رہیئے۔۔۔:)
  13. کاشفی

    جلوہ تھا اُس کا پیشِ نظر دیکھتی رہی - شیاما سنگھ صبا

    بیحد شکریہ قیصرانی بھائی۔۔ جب نمازِ محبت ادا کیجئے غیر کو بھی شریکِ دعا کیجئے خیر سے ہم تو آپ کے بھائی ہیں۔۔۔اس لیئے دعاؤں میں یاد رکھا کیجئے۔۔اور ہمیشہ خوش رہیئے۔۔:)
  14. کاشفی

    مجھ کو آئے گا کسی روز منانے والا - شانتی صبا

    اتنے بھی ناسمجھ نہ بنیں آپ۔۔سب سمجھتے ہیں آپ۔۔:) یہ غزل پڑھیںقیصرانی بھائی۔۔
  15. کاشفی

    جلوہ تھا اُس کا پیشِ نظر دیکھتی رہی - شیاما سنگھ صبا

    غزل (شیاما سنگھ صبا) جلوہ تھا اُس کا پیشِ نظر دیکھتی رہی تھا دیکھنا محال مگر دیکھتی رہی منزل پہ اپنی جا بھی چکے اہلِ کارواں میں بےبسی سے گردِ سفر دیکھتی رہی اُس پر پڑی نگہ تو محسوس یہ ہوا جل جائے گی نگہ اگر دیکھتی رہی دریا پہ لا کے اپنے سفینے جلا دیئے چشمِ شکست میرا ہُنر دیکھتی رہی
  16. کاشفی

    مجھ کو آئے گا کسی روز منانے والا - شانتی صبا

    صحیح کردیا ہے۔۔۔ برف کے شہر میں رہتا ہے جلانے والا
  17. کاشفی

    یوں تو ملنے کو بہت اہلِ کرم ملتے ہیں - شیاما سنگھ صبا

    بیحد شکریہ قیصرانی بھائی۔۔خوش و خرم رہیئے ہمیشہ۔۔ اِدھر بھی نظرِ کرم:)
  18. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    اُس پر پڑی نگہ تو محسوس یہ ہوا جل جائے گی نگہ اگر دیکھتی رہی (شیاما سنگھ صبا)
  19. کاشفی

    یوں تو ملنے کو بہت اہلِ کرم ملتے ہیں - شیاما سنگھ صبا

    غزل (شیاما سنگھ صبا) یوں تو ملنے کو بہت اہلِ کرم ملتے ہیں بےغرض ہوتے ہیں جو لوگ وہ کم ملتے ہیں کون کہتا ہے کہ بازیگر نم ملتے ہیں مُسکرا کر غمِ حالات سے ہم ملتے ہیں ذوق سجدوں کا مچل اُٹھتا ہے پیشانی میں جس جگہ پہ بھی ترے نقشِ قدم ملتے ہیں نرم لہجے میں بھی ممکن ہے کہ نفرت مل جائے اب تو پھولوں...
Top