واہ ظہیر بھائی۔ کیا بات یاد دلائی ہے آپ نے۔ بچپن میں یہی کسیری حلوہ ہماری دادی اماں بنایا کرتی تھیں۔ سردیاں شروع ہوتے ہی اباجان سے فرمائش کرکے سارے لوازمات منگواتیں۔ پھر حلوے کی تیاری شروع ہوتی۔ کئی دن لگ جاتے۔ صدولے کا اسکامچہ تو دادی اماں نے شاید اسی کام کے لیے رکھ چھوڑا تھا۔ مجال ہے جو اماں...