ہے آگے یہ لکھا شبِ بست و یکم کا حال
آخر کیا وصیِ محمد نے انتقال
اندوہ اہلِ بیتِ نبی کو ہوا کمال
اب آگے اے انیس نہیں طاقتِ مقال
یا رب مری دعا بہ اجابت قبول ہو
شاہِ نجف کی جلد زیارت حصول ہو
اُس وقت ابنِ ملجمِ ملعون بھی اٹھا
لگ کر ستوں سے مسجدِ کوفہ میں چھپ رہا
سر مرتضیٰ کا سجدۂ اول میں جب جھکا
اس نے لگائی تیغ پہ حاصل نہ کچھ ہوا
پر دیکھیو خدا سے علی کے نیاز کو
ہرگز نہ روزہ دار نے توڑا نماز کو