مانگی کو فعلن کے وزن پر ہی باندھا جاتا ہے ۔
یائے تانیث ‘‘ ی ’’ کو خفی کرنا یعنی گرانا جائز نہیں ۔
ہنس ۔۔ در یعنی فع کے وزن پر ہے ۔۔
(بشکریہ وارث صاحب، مجھ سے تسامح ہوا تھا میں لاشعوری طور پر ہنس راج ہنس کے طور پر لے گیا۔)
آخر کو ہنس پڑیں گے کسی ایک بات پر
رونا تمام عمر کا بے کار جائے گا !!!!!!!!!