رات کو ہمارے ساتھ ٹونی کی منگیتر تھی اور اُس کی دو سہیلیاں ۔ ایک تو بالکل سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، جیسے ایک ایک عضو پر خالق نے وقت صرف کیا ہو۔ آنکھوں کی ساخت، ہونٹوں کی بناوٹ،، پیشانی، گردن۔۔۔۔ہر چیز تراشیدہ معلوم ہوتی تھی۔ یہ مجسمہ کسی بُت تراش کا خواب تھا۔
’’کون ہے یہ؟‘‘ میں نے پوچھا۔...