قیوم نظر کہتے ہیں:
1930 میں بیروزگاری عروج پر تھی ۔ ن م راشد ایم اے اکنامکس ہو کر ڈی سی ملتان کے دفتر میں ملازم تھے۔ کرشن چند ایم اے ایل ایل بی کر کے بیکار پھرتا تھا۔ راجندر سنگھ بیدی ڈاکخانے میں مہریں لگاتے تھے۔ مختار صدیقی اور یوسف ظفر کلرک تھے۔ ادیبوں کا اتنا بڑا طبقہ معاشی نا آسودگی کا شکار...