شمر، وہ دشمنِ سلطانِ امامت، وہ ذلیل
قتلِ شبیر کی ملتی ہی نہ تھی جس کو سبیل
چاہتا تھا کہ ہو سَر معرکہ با صد تعجیل
رہ گئی فتح کی اب اس کو بھی امید قلیل
جا کے بھاگی ہوئی فوجوں کو بلا کر لایا
طمع کے دام میں لوگوں کو پھنسا کر لایا
ضرور پڑھیں فرحت اور دوسری بار پڑھنے کے بعد اپنے تاثرات شیئر کیجیے گا۔ میں دوسری بار پڑھ رہی ہوں۔ پہلی بار کئی سال پہلے پڑھی تھی ابھی چند دن قبل نظر پڑی تو دل چاہا دوبارہ پڑھنے کو کہ اس بار کیا تاثر قائم ہوتا ہے۔
ایسا مرکب ہے تو راکب ہے امامِ عالم
پسرشیر خدا، سبطِ نبی عرش حشم
لا فتا اِلّا علی، باپ کے رتبے میں رقم
اور نانا کے لیے عرشِ بریں زیر قدم
فوج اعدا اسی ہیبت سے مری جاتی ہے
موت جاں لینے کی زحمت سے بچی جاتی ہے
ضرب ہے قلبِ زمیں کے لیے اِس کی ٹھوکر
قہر ہیں فوجِ عدو کے لیے اس کے تیور
مثلِ سیماب ٹھہرتا نہیں اک جا پل بھر
ابھی دیکھا تو ادھر تھا ابھی دیکھا تو اُدھر
جس طرف اُڑ کے گیا حشر اٹھاتا گزرا
صاف دیوار مفاسد کو گراتا گزرا
دَبدبہ کہتا ہے اے موجِ ہوا پیچھے ہٹ
طنطنہ کہتا ہے اے دشت کے پھیلاؤ سمٹ
ولولہ کہتا ہے میداں کی بدَل دُوں کروٹ
حَوصلہ کہتا ہے یہ معرکہ سَر ہو جھٹ پٹ
بن کے ایک قوسِ اجل رزم میں مُڑنا اس کا
دیکھ لے تختِ سلیمان بھی اُڑنا اس کا