اے حسین ابن علی منبر احمد کے امیں
تیری قُربانی سے شاداب ہوا دین مبیں
خون سے تیرے ہے افسانہ ایماں رنگیں
تجھ سا اس دہر میں ہونا کبھی ممکن ہی نہیں
آج تک دین کے ارکان جواں تجھ سے ہیں
منبر و مسجد و خطبات و اذاں تجھ سے ہیں
شمر پر خطبہ شبیر کا کیا ہوتا اثر
دشمن آل محمد جو تھا وہ بانئ شر
دیدہ کُور پہ لٹکا ہوا تھا پردہ زر
جلوہ حق اسے اس وقت بھی آیا نہ نظر
جھک کے ظالم نے سر شاہِ ہدا کاٹ لیا
تیغ سے سبط پیمبر کا گلا کاٹ لیا
دیکھ اس جنگ سے جاگا ہے ضمیر اسلام
اب نئے سر سے لیا جائے گا اللہ کا نام
نیندیں ہو جائیں گی راتوں کی لعینوں کو حرام
ہم تو سردار جناں ہیں ہمیں سر سے کیا کام
کر دیا آج ادا فرض امامت ہم نے
پائی ہے مرضئ مولا کی شہادت ہم نے
شمر پھر آ کے ہوا سینہ اطہر پہ سوار
ہنس کے بولا کہ چلاتے نہیں اب کیوں تلوار
آخرش بھول گئے سارے علی بند کے وار
دیکھتے کیا ہو مری شکل کو یُوں آئینہ وار
شاہ بولے ترا انجام ہے صورت تیری
تیرے چہرے سے برستی ہے نحوست تیری
جھک گیا بارگہِ خالقِ کونین میں سر
ہٹ گئی جانبِ دنیا سے مُجاہد کی نظر
جھک کے سجدے میں پڑھی حمد خدائے اکبر
آ گیا جنگ کے میداں میں پلٹ کر لشکر
ظلم کیا کیا نہ کئی روز کے پیاسے پہ ہوئے
سینکڑوں وار محمد کے نواسے پہ ہوئے
او گاڈ ، یاز بھائی بدل دیں واقعی اسے تو :) :) :)
ابھی اکمل بھائی کے توجہ دلاؤ نوٹ پر تصویر پر کلک کیا تو محسوس ہوا کہ کوئی بندہ کھڑا ہے(؟) ورنہ ہمیشہ یہی لگا جس کی نشاندہی اکمل بھائی نے کی ہے۔ :donttellanyone2: :)
صفت برق چلی ابنِ عَلی کی تلوار
لگ گئے جنگ کے میداں میں سروں کے انبار
لشکرِ ظُلم کو لینا ہی پڑی راہِ فرار
چند ساعت جو ملا جنگ سے حضرت کو قرار
پُشتِ مرکب سے اُتر آئے زمیں پر شبیر
آئے سجادے پہ یوں چھوڑ کے منبر شبیر
کھینچ لی نیام سے حضرت نے حسام حیدر
خشک تھے پیاس سے لب جسم ہوا خون میں تر
جنگ کے اب جو حریفوں کو دکھائے جوہر
کٹ کے جسموں پہ گرے جسم ، سروں پہ گرے سر
ایک اک ہاتھ میں سو، سو، کے گلے کاٹ دیے
رخنے میدان کے لاشوں سے سبھی پاٹ دیے