سُن کے ارشادِ امامت کو یہ بولے عباس
سُن کے آیا ہوں ابھی اہلِ ستم کی بکواس
عرض خود لے کے یہ آیا تھا میں سرکار کے پاس
اِذن ہو رَن کا مجھے اَب تو شہِ عرش اساس
نام میدان سے فوجوں کا مٹا آؤں گا
تنِ تنہا انہیں تا شام بھگا آؤں گا
عَلم جعفرطیّار کا کھل جائے نشاں
رزم گہہ میں ابھی ہوتا ہے قیامت کا سماں
زورِ شبّیر سے واقف نہیں یہ دشمنِ جاں
سب کماندار ابھی گوشوں میں ہوتے ہیں نہاں
ہیں جو بد اصل تو اب ان سے کوئی میل نہیں
دیکھ لیں جنگ پیاسے سے کوئی کھیل نہیں
کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی
بڑھے آتے ہیں جفاکار، تقدم ولدی
چاروں جانب سے ہے یلغار، تقدم ولدی
ہوتی ہے تیروں کی بوچھاڑ، تقدم ولدی
زد پہ ہیں سب میرے انصار، تقدم ولدی
کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی
وقت یہ وہ ہے کہ تلوار اٹھا لیں ہم لوگ
دینِ حق کو کسی صورت سے بچا لیں ہم لوگ
کیوں کسی اور پہ اس بار کو...
سُن کے یہ شور، کہا شہ نے، کہاں ہیں عباس؟
مڑ کے دیکھا تو وہ دروازے پہ تھے بے وسواس
ہاتھ ایک سینے پہ، اِک قبضہ شمشیر کے پاس
کہا، کیا حکم؟، کہا، لائیے نانا کا لباس
کسی تاخیر کی ہم کو کوئی حاجت ہی نہیں
حیدری تیغ کو صیقل کی ضرورت ہی نہیں
گفتگو ہوتی تھی یہ بھائی بہن کے مابین
شور لشکر میں اٹھا، سامنے اب آئیں حسین
قتل کر لیں جو انہیں ہم تو ملے قلب کو چین
چھپ کے بیٹھے ہیں کہاں سبطِ رسول الثقلین
یا تو بیعت کریں یا جنگ علاج اور نہیں
صرف باتوں میں گزر جائے یہ وہ دور نہیں
شکر صد شکر کہ پورا ہوا ارشادِ رسول
جان دینا ہمیں اِس وقت ہے سو جاں سے قبول
فخر فرمائیں گے اِس دن پہ علی اور بتول
یہ تو خوش ہونے کا ہے وقت نہ ہو دل میں ملول
اپنے بچو! یہ خدا تم کو سلامت رکھے
ہم ہوں قربان مگر دین کی عزت رکھے
کہا شبیّر نے مایوس نہ ہو اے ہمشیر
تھا ازل ہی سے یہ قسمت میں ہماری تحریر
یاد آتی ہے رسولِ دوسرا کی تقریر
مجھ سے فرماتے تھے اے نورِ نظر، اے شبّیر
ایک دن تجھ کو میرے کام بھی آنا ہو گا
اپنا کٹوا کے گلا دیں کو بچانا ہو گا
میں تو زندہ ہوں فقط آپ کی خدمت کے لیے
گھر کو چھوڑا تھا اِسی عالمِ غربت کے لیے
آپ کے ساتھ ہوں امّاں کی وصیت کے لیے
زندگی وقف ہے دربارِ امامت کے لیے
آپ کے بعد کوئی زیست کا عنوان نہیں
سانس لینا بھی بہن کے لیے آسان نہیں
ایسا مشکل تو نہیں ہے سفر ملک عدم
راہِ ایماں میں بڑھانا ہے فقط ایک قدم
آپ کے بعد بھلا کون جیے گا اِک دَم
رنج سے یونہی نکل جائے گا ہر ایک کا دَم
آپ کے سامنے مر جائیں تو عزت رہ جائے
جان جائے مگر ایمان کی دولت رہ جائے
آپ کی جان سے دُور آپ کی جائے کیوں جان
پہلے ہوں آپ پہ دونوں مرے بچے قربان
عمریں چھوٹی ہیں تو کیا ان کے بڑے ہیں اوسان
ان کو بچپن ہی سے ہے جنگ و جدل کا ارمان
کھیلتے رہتے تھے یہ تیر و کماں سے دونوں
کام لے سکتے ہیں اب تیغ و سناں سے دونوں
سُن کے زینب نے حسین ابن علی کی تقریر
بولیں ہے ہے یہ دکھاتی ہے ہمیں کیا تقدیر
ہم تو مہمان ہیں مہمانوں کی ایسی توقیر
درپئے سبطِ پیمبر ہوئے کیوں یہ بے پیر
اِن کو کیا روزِ جزا کا بھی کوئی دھیان نہیں
پاسِ اسلام نہیں، عزتِ ایمان نہیں
جا کے تم قبر پہ نانا کی یہ کہنا بہ ادَب
تخت اور تاج سے مجھ کو نہ تھا کوئی مطلب
زعمِ باطل کو مٹانا تھا جو اے شاہِ عرب
جان دے دی ہے فقط آبروئے حَق کے سبب
بیعت ظلم نہ کی جان بچانے کے لیے
اک سبق دے کے گیا سارے زمانے کے لیے
اکبر و قاسم و سجاد کا رکھنا ہے خیال
دل عباس سے جائے گا ہمارا نہ ملال
ہے مرے بعد اب ان کی حفاظت کا سوال
کم سے کم یہ تو نہ ہوں جور و ستم سے پامال
سب مرے جان و جگر ہیں یہ کوئی غیر نہیں
دشمنوں کو مرے ان سے تو کوئی بیر نہیں
یہ دُعا کر گئے خیمہ اطہر میں امام
یوں کیا زینبِ محزوں سے شہِ دیں نے کلام
اب ذرا دیر میں ہو جائے گا کام اپنا تمام
باہر عباس ہیں اور گھر میں تمہارا ہے نظام
قتل ہو جائیں جو ہم اس کا ذرا دھیان رہے
کنبہ احمد کا نہ دنیا میں پریشان رہے
تیرگئ دلِ باطل کو مٹا دے یارب
نورِایماں کی جھلک ان کو دکھا دے یارب
پردہ آنکھوں پہ جو ،ان کی ہے، اٹھا دے یارب
سیدھا رستہ انہیں دنیا میں بتا دے یارب
دولتِ زیست تری رہ میں لٹانے کے لیے
میں ہوں موجود ہر اِک ظلم اٹھانے کے لیے
میرے انصار کا خوں رنگ دکھائے یارب
شرم ان قاتلوں کو ظلم پہ آئے یارب
خوں مسلماں نہ مسلماں کا بہائے یارب
شمع ایماں کو نہ اب کوئی بجھائے یارب
اپنے محبوب کا صدقہ انہیں ایماں دیدے
زنگ آلود ہیں دِل کچھ انہیں عرفاں دیدے