غل اٹھا ہے کہ جری ابن جَری آتا ہے
چاند یثرب کا پئےجَلوہ گری آتا ہے
کیسا رہوار اڑا شکلِ پری آتا ہے
دشت میں مثلِ نسیمِ سحری آتا ہے
دیکھیے کس کے قدم جمتے ہیں رو میں اس کی
غالباً موت کا دریا ہے جلو میں اس کی
درِ خیمہ پہ تھا موجود جو ،رہوارِ قدیم
ساتھ زینب بھی وہاں تک رہیں با قلبِ دو نیم
آ گئے پشتِ فرس پر جو شہِ عرش مقیم
آخری بار کہا جھک کےبہن نے تسلیم
چھوڑ کر اہلِ حرم جنگ کو جاتے ہیں حسین
شور، اعداء میں بپا ہو گیا، آتے ہیں حسین
کیسے رخصت ہوئے زینب سے ، یہ لکھنا ہے محال
نہ زباں کو ہے یہ طاقت ، نہ قلم کو ہے مجال
غمِ بے وارثی سے قلب ، بہن کا پامال
بھائی کے سامنے ایمان کی عظمت کا سوال
بنتِ حیدر کی نگاہوں میں تھی ویراں دنیا
ابنِ حیدر کے لیے جنگ کا میداں دنیا
جب نہ باقی رہا کوئی کہ وہ میدان میں جائے
سَر جھکائے ہوئے شہ، عابدِ بیمار تک آئے
لبِ معصوم سے اسرارِ امامت سمجھائے
پیچ و خَم ، راہِ الٰہی میں ہیں جتنے وہ بتائے
کام اب گھر کا نہ تھا کچھ شہِ مظلوم کے پاس
آئے رخصت کے لیے زینبِ مغموم کے پاس