نتائج تلاش

  1. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    ہو گئے اصغرِ معصوم بھی پیکاں کے ہدف گئی حضرت کی نظر عرشِ الٰہی کی طرف دیکھا موجود فرشتے ہیں اِدھر صف در صف چاہتے ہیں کہ کہیں کچھ پسرِ شاہِ نجف ان فرشتوں کو جو شبیر اشارا کرتے عین ممکن تھا کہ دنیا ، تہ و بالا کرتے
  2. سیدہ شگفتہ

    میں کہ مداحئ شبیر عبادت میری

    میں کہ مداحئ شبیر عبادت میری
  3. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    غمِ عباس میں شبیر ہوئے یوں بے حال آنکھیں خوں بار ہوئیں رنج سے اور رُوح نڈھال لاشہ و مشک و علم خیمے تک آنا تھا محال پھر بھی ملتی نہیں شبیر کی ہمت کی مثال بھائی کے آخری دیدار کو ہو آئے حسین علم و مشکِ سکینہ کو اٹھالائے حسین
  4. سیدہ شگفتہ

    لائبریری : گوشۂ صحبت

    شکریہ نایاب بھائی اسی اتوار تک۔
  5. سیدہ شگفتہ

    والدین کی مغفرت کے لیے دعا - 5

    رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا
  6. سیدہ شگفتہ

    درود بر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 46

    اللھم صل علی محمد و آل محمد
  7. سیدہ شگفتہ

    درود بر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 46

    اللھم صل علی محمد و آل محمد
  8. سیدہ شگفتہ

    درود بر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 46

    اللھم صل علی محمد و آل محمد
  9. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    گِر گیا آہ علم خاک پہ، دل خُون ہوا گرز، سر پہ جو لگا، گھوڑے پہ سنبھلا نہ گیا شیر نے نعرہ لگایا کہ ہوا فرض ادا رنج اتنا ہے کہ پانی نہ حَرم تک پہنچا غم یہ ہے سبطِ شہنشاہِ امم پیاسے ہیں میں تو کوثر کو چلا اور حَرم پیاسے ہیں
  10. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    پانی لینے جو گئے نہر پہ عباسِ جَری آ گئے گھاٹ پہ، فوجوں سے لڑے مشک بَھری اور کچھ پیاس بڑھی دیکھ کے ساحل کی تَری کر دیا آبِ رواں فرطِ وفا سے نظری گِھر گئے آ کے ترائی میں تو مجبور ہوئے کٹ گئے ہاتھ، چِھدی مشک تو معذور ہوئے
  11. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    جب سنی باپ نے فریاد پسر کی آواز آئے مقتل میں جگر تھام کے سُلطانِ حجاز باپ تھے کیسے بھر آتا نہ بھلا قلبِ گداز جھک گیا بار گہِ رب میں سرِ عجز و نیاز لاشہ اکبرِ گلرو کو اٹھا لائے حسین آہ، یہ عمر، یہ افتاد، یہ غم، ہائے حسین
  12. سیدہ شگفتہ

    لائبریری : گوشۂ صحبت

    نایاب بھائی، کیا آپ اس مرثیہ کے لیے سرورق ڈیزائن کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو کب تک کر سکیں گے یہ بھی بتائیے گا پلیز۔
  13. سیدہ شگفتہ

    لائبریری : گوشۂ صحبت

    اعجاز انکل، آپ کے مراسلے کا جواب یہاں اس لڑی میں لکھ رہی ہوں۔ صبا کے کچھ مرثیے مکمل ہو چکے ہیں اور کچھ نامکمل۔
  14. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    گئے میدان میں ہم شکلِ رسولِ دو سرا کر دیا حشر سر عرصہ مقتل برپا پشت سے نیزہ لیے پھر بنِ کاہل آیا ہائے کیسے جگرِ اکبرِ گلفام چھدا شور میں رُکتی ہوئی یُوں سرِ منزل پہنچی باپ تک بیٹے کی فریاد بہ مشکل پہنچی
  15. سیدہ شگفتہ

    لاشہ اکبرِ گل رو کو اٹھا لائے حسین----- آہ، یہ عمر، یہ افتاد، یہ غم، ہائے حسین (صبا اکبر آبادی)

    لاشہ اکبرِ گل رو کو اٹھا لائے حسین----- آہ، یہ عمر، یہ افتاد، یہ غم، ہائے حسین (صبا اکبر آبادی)
  16. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    اِن میں وہ قاسمِ نوشہ نے دکھائے جوہر شش جہت رہ گئے اندازِ وغا سے ششدر تہ و بالا ہوا اربابِ ستم کا لشکر بحرِ ظلمات میں تھا غرق حَسن کا دلبر جوڑا شادی کا کٹا، سہرے کی لڑیاں ٹوٹیں تیغوں سے سلسلہ جسم کی کڑیاں ٹوٹیں
  17. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    یوں لٹا پھر یہ خزانہ کہ اُڑی دشت میں خاک ہوئے زینب کے پسر نرغہ اعداء میں ہلاک پہلے تو اہلِ شقاوت میں بندھی دونوں کی دھاک پھر بھی دو بچے کہاں اور کہاں لاکھوں سفّاک زخم کھا کھا کے پیاسوں نے شہادت پائی جس کی دل میں تھی تمنا وہی دولت پائی
  18. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    کس طرح بعد مرے ہو گا یتیموں کا نباہ ایک لے دے کے تمہیں پر تو ٹھہرتی ہے نگاہ یوں تو ہم آلِ نبی پہ ہے بڑا فضلِ الاہ ابنِ حیدر سَا مگر چاہیے اک پُشت پناہ یوں تو ہر حال میں ہے فضلِ اِلٰہی درکار ہے خزانے کی حفاظت کو سپاہی درکار
  19. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: منبر

    شہ نے فرمایا کہ عباس! یہ کیسا ہے کلام ٹھیک ہی سوچا تھا بابا نے تمہارے لیے نام تم سے لاریب گریزاں ہوں ہِزبز و ضرغام تمہیں کرنے ہیں مرے بعد بھی لیکن کچھ کام تم مجھے چھوڑ کے جانے کا ابھی نام نہ لو جلد بازی سے جوانی میں ذرا کام نہ لو
  20. سیدہ شگفتہ

    کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی!

    کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی!
Top