چھپانا اُن سے دل کو فائدہ کیا
بھلا چھوڑے گی وہ بانکی ادا کیا
بپا ہے محشر میں اک تازہ محشر
رُخ جاناں سے پردہ اُٹھ گیا کیا
کہا جب دل نہ لے جاؤ تو بولے
کہ میرا اور تیرا ہے جُدا کیا
نہ کہہ سکتے ہیں یار اُس کو نہ دشمن
نہیں معلوم ہے یہ ماجرا کیا
(میر مہدی مجروح)