کسی کے روبرو اُن کا پیام آیا تو کیا ہوگا
ہمارے بھی لبوں پر اُن کا نام آیا تو کیا ہوگا
کسی کے ظلمِ بیجا پر اگر میں مُسکرا بھی دوں
جو آنسو بن کے جوشِ انتقام آیا تو کیا ہوگا
(ممتاز لکھنوی)
غزل
(طاہر فراز)
ہاتھوں میں کشکول، زباں پر تالا ہے
اپنے جینے کا انداز نیرالا ہے
آہٹ سی محسوس ہوئی ہے آنکھوں کو
شاید کوئی آنسو آنے والا ہے
چاند کو جب سے اُلجھایا ہے شاخوں نے
پیڑ کے نیچے بےترتیب اُجالا ہے
خوشبو نے دستک دی تو احساس ہوا
گھر کے در و دیوار پہ کتنا جالا ہے
اس دنیا میں اپنے غم سے آج پریشاں کوئی نہیں
اوروں کا سکھ دیکھ کے اب تو لوگ دکھی ہوجاتے ہیں
اب کے منصف سے ملنا تو اتنی بات بتا دینا
جن کا حق چھینا جاتا ہے وہ باغی ہوجاتے ہیں
(جوہر کانپوری)